پاکستان کسی ملک کو جوہری ہتھیار فراہم نہیں کر رہا: سیکریٹری خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیکریٹری خارجہ نے جوہری پروگرام کسی دوسرے ملک کو فروخت یا منتقل کرنے کے بارے میں خبروں کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب یا کسی دوسرے ملک کو جوہری ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو واشنگٹن میں اعزاز احمد چوہدری نے وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں امریکی حکام سے ملاقاتوں کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے جوہری پروگرام یا جدید ٹیکنالوجی کسی دوسرے ملک کو فروخت یا منتقل کرنے کی خبروں کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا۔

’پاکستان کے جوہری ہتھیار صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہیں‘

’پاکستانی جوہری ہتھیار سعودی عرب کو فراہمی کے لیے تیار‘

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کے جوہری پروگرام کا کسی دوسرے ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام صرف اور صرف ملکی سلامتی کے لیے ہے۔

سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جوہری معاملات پر سعودی عرب سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

انھوں نے بھارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا مقصد ’مشرق‘ سے لاحق خطرات سے دفاع ہے۔

سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کی پہنچ سے محفوظ رکھے گا۔

واضح رہے کہ سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں پاک امریکہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ اور دیگر اہم سفارتی اور فوجی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے سلسلے میں امریکہ کے دورے پر ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا بدھ کو کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے ایجنڈے میں ’جوہری تحفظ کی بین الاقوامی کوششوں کو بڑھنے‘ کے ساتھ ساتھ عدم پھیلاؤ اور ایکسپورٹ کنٹرول جیسے امور شامل تھے۔

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان ملاقاتوں کو ’تعمیری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتیں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گی۔

اعزاز احمد چوہدری نے بین الاقوامی طاقتوں کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو سراہا اور کہا کہ یہ سفارتی کامیابی پاکستان کے لیے بھی اقتصادی طور پر مفید ثابت ہو گی اور پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہو سکے گا۔

اسی بارے میں