’ایک ہزار افراد کے علاج کے لیے صرف ایک ڈاکٹر‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان میں جنوری سے جون تک پولیو کے 25 کیسز سامنے آئے ہیں

پاکستان کے اقتصادی سروے کے مطابق ملک کی آبادی سالانہ 2 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے اور یہ 19 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

پاکستان میں شرح پیدائش تین اعشاریہ دو فیصد ہے لیکن اتنی آبادی والے ملک میں صحت اور تعلیم کی سہولیات آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

سندھ مڈل تعلیم کے لحاظ سے ’بدترین‘ صوبہ

اقتصادی سروے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے افراد جو کام کر سکتے ہیں اُن کی تعداد چھ کروڑ ہے اور ان میں پانچ کروڑ 65 لاکھ افراد ملازمت کر رہے ہیں۔

سروے کے مطابق 36 لاکھ افراد بے روزگار ہیں اور ملک میں بیروزگاری کی شرح چھ فیصد ہے۔

تعلیم

اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں پانچ سے نو سال کی عمر بچوں میں سے محض 57 فیصد ہی سکول میں داخلہ لے پاتے ہیں۔

یاد رہے اقوام متحدہ کے ملئینیم ڈوپلمنٹ اہداف کے تحت حکومت کو یہ یقینی بنانا تھا کہ سنہ 2015 کے اختتام تک پانچ سے نو سال کی عمر کے تمام بچے سکول میں داخل ہوں۔

سروے کے مطابق پاکستان میں سرکاری سکولوں میں داخلہ کی شرح سب سے زیادہ پنجاب میں ہے اور پنجاب میں سکول جانے کی عمر والے تقریباً 62 فیصد بچے سکول جاتے ہیں جبکہ سندھ میں 52 فیصد بچے اور بلوچستان میں 45 فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔

پاکستان میں خواندگی کی شرح 58 فیصد ہے جن میں سے خواتین میں خواندگی کی شرح محض 47 فیصد ہے۔

سروے کے مطابق سب سے زیادہ خواندہ خواتین یعنی 52 فیصد پنجاب میں ہیں جبکہ سندھ میں خواتین کی خواندگی کی شرح 43 فیصد، خیبر پختونخوا میں 36 فیصد اور بلوچستان میں 25 فیصد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں پانچ سے نو سال کی عمر بچوں میں سے محض 57 فیصد ہی سکول میں داخلہ لے پاتے ہیں

سروے کا کہنا ہے کہ ملک میں سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں کی تعداد 161 ہے اور اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ان یونیورسٹیوں میں 18 لاکھ افراد تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

صحت

اقتصادی سروے کے مطابق پاکستانیوں کی اوسط عمر 66 سال اور چھ ماہ ہے اور ملک میں پیدا ہونے والے ایک ہزار نوزائیدہ بچوں میں سے 69 بچے پیدا ہونے کے بعد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

پاکستان میں صحت کی عدم سہولیات اور غذائیت کی کمی کی وجہ سے ایک ہزار بچوں میں تقریباً 86 بچے پانچ سال کی عمر تک پہچنے سے پہلے مر جاتے ہیں جبکہ زچگی کے دوران خواتین کی شرح اموات بھی خطے کے دوسرے ملکوں کے مابین زیادہ ہے۔

سروے کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ 75 ہزار 223 ڈاکٹر رجسٹرڈ ہیں اور آبادی کے لحاظ سے ملک کے 1073 افراد کے علاج معالجے کے صرف ایک ڈاکٹر ہے۔ رجسٹرڈ نرسوں کی تعداد 90 ہزار ہے۔

ملک میں ہسپتالوں میں بستروں کی صورتحال یہ ہے کہ تقریباً 16 سو افراد کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال میں محض ایک بستر ہے۔

پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد 4500 ہے۔ ملک میں جنوری سے جون تک پولیو کے 25 کیسز سامنے آئے ہیں۔

اسی بارے میں