ممنوعہ تنظیم اہلسنت والجماعت کے مرکزی رہنما گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری دستاویز کے مطابق اہلسنت والجماعت کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جبکہ یہ جماعت مظاہرے اور مذہبی اجتماعات بھی کرتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس نے غیر قانونی مذہبی تنظیم اہلسنت والجماعت کے مرکزی رہنما اورنگ زیب فاروقی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مزکورہ جماعت کے سیکریٹری جنرل اورنگ زیب فاروقی پر راولپنڈی میں داخلے پر پابندی ہے اور اُنھوں نے اس کی خلاف ورزی کی ہے جس کے نتیجے میں اُنھیں حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

اہلسنت والجماعت کے سربراہ، کارکنان کے خلاف مقدمات درج

سیاسی مصلحتوں کی قیمت کیا ہے؟

واضح رہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے اہلسنت والجماعت کے مرکزی صدر مولانا احمد لدھیانوی پر وفاقی دارالحکومت میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی لیکن وہ اس کے باوجود اس عرصے میں متعدد بار اسلام آباد آ چکے ہیں۔

اہلسنت والجماعت کے مقامی میڈیا رابطہ کار حافظ اُنیب فاروقی کے مطابق ان کی جماعت کے مرکزی رہنما اورنگزیب فاروقی جمعے کے خطبے کے لیے راولپنڈی کے قریبی قصبے ٹیکسلا جار ہے تھے کہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے اُن کی گاڑی کو روک لیا اور اُنھیں گاڑی سے اُتار کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر لے گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ مولانا اورنگزیب فاروقی کے ساتھ اُن کے جماعت کے دیگر افراد کو گرفتار نہیں کیا گیا اور اُنھیں واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔

اُنیب فاروقی کا کہنا ہے کہ ابھی تک اُن کی جماعت کی قیادت کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مولانا اورنگزیب فاروقی کو تفتیش کے لیے کہاں منتقل کیا گیا ہے اور اس ضمن میں راولپنڈی پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ مولانا اورنگزیب فاروقی نے چند روز قبل مری میں ایک احتجاجی جلوس سے خطاب کیا ہے جس پر اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تنظیم اہل سنت والجماعت 12 جنوری 2002 کو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے دیگر پانچ جماعتوں کے ساتھ سپاہِ صحابہ پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی تھی

اہلسنت والجماعت کے مرکزی رہنما کی گرفتاری کے خلاف راولپنڈی اور اسلام آباد میں اس جماعت کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تاہم پولیس ان مظاہرین کو منتشر کر دیا۔

تنظیم اہل سنت والجماعت

سرکاری دستاویز کے مطابق اہلسنت والجماعت کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جبکہ یہ جماعت مظاہرے اور مذہبی اجتماعات بھی کرتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اہلسنت والجماعت کی قیادت کا موقف ہے کہ اُنھیں کسی بھی حکومت نے کبھی بھی کالعدم قرار نہیں دیا۔

تنظیم اہل سنت والجماعت 12 جنوری 2002 کو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے دیگر پانچ جماعتوں کے ساتھ سپاہِ صحابہ پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی تھی۔

سپاہِ صحابہ کی بنیاد 1985 میں رکھی گئی تھی اور یہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار سے پہلے عام انتخابات میں حصہ بھی لیتی رہی ہے۔

سپاہ صحابہ کے ہی کچھ کارکنوں نے بعد میں لشکر جھنگوی کے نام سے تنظیم تشکیل دی تھی۔

اسی بارے میں