وفاقی بجٹ: کاشتکاروں کے لیے مراعات کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے آئندہ تین برسوں میں جی ڈی پی کی ترقی کی شرح سات فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے

پاکستان کی وفاقی حکومت نے زرعی آمدن میں اضافے کے لیے کاشتکاروں کے لیے بعض مراعات کا بھی اعلان کیا ہے جن میں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل کے لیے کسانوں کو بلا سود قرضے شامل ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ زرعی شعبے کے لیے دی جانےوالی ان مراعات کے ذریعے حکومت زرعی پیدوار میں اضافے کی کوشش کر رہی ہے جو اس وقت ملکی مجموعی پیدوار کا بیس فیصد بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق وفاقی حکومت نے معیشت کی ترقی کی رفتار یا جی ڈی پی میں اضافے کے لیے جو ہدف مقرر کیا ہے وہ زرعی شعبے کی ترقی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور شائد اسی نکتہ نظر سے حکومت نے زرعی شعبے کے لیے مراعات کا اعلان کیا ہے۔

حکومت نے آئندہ تین برسوں میں جی ڈی پی کی ترقی کی شرح سات فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت نے چھوٹے کاشتکاروں کو ٹیوب ویل چلانے کے لیے بجلی اور ڈیزل کے خرچے سے بچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کسانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل لگانے کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کسانوں کو دیے جانے والے زرعی قرضوں کی مقدار بھی 500 ارب روپے سے بڑھا کر 600 ارب روپے کرنے کا اعلان کیا

وزیر خزانہ کے مطابق شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل کی مالیت 11 لاکھ روپے ہے۔ کسان اس قیمت کا ایک لاکھ روپے یکمشت ادا کرے گا جبکہ باقی 10 لاکھ روپے حکومت ادا کرے گی جو کسان آسان اقساط میں حکومت کو لوٹائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس قرضے پر سود کی رقم حکومت بینک کو ادا کرے گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق اس سکیم کے تحت آئندہ تین برسوں میں 30 ہزار ٹیوب ویلز لگائے جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کسانوں کو دیے جانے والے زرعی قرضوں کی مقدار بھی 500 ارب روپے سے بڑھا کر 600 ارب روپے کرنے کا اعلان کیا۔

وزیر خزانہ نے چھوٹے کاشتکاروں کے لیے سرکاری ضمانت پر ایک لاکھ روپے کی قرضہ اسکیم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت پانچ ایکڑ نہری اور دس ایکڑ بارانی زمین رکھنے والے تین لاکھ کاشتکاروں کو ایک لاکھ روپے فی کس قرض دیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کسانوں کے لیے فصل اور مویشیوں کی انشورنس سکیموں کا بھی اعلان کیا۔

اسی بارے میں