’ہر مردے کے ساتھ ایک درخت کی بھی موت‘

Image caption بیرمی جس کا سائنسی نام ٹیکسس ویلیچیانا ہے، دنیا کے دیگر پہاڑی علاقوں کی طرح خیبر پختونخوا کی گلیات، سوات، اور گلگت میں بھی پایا جاتا ہے

درخت زندہ انسانوں کی تو ضروریات پوری کرتے ہی ہیں لیکن صوبہ خیبر پختونخوا میں گلیات کے علاقے میں مرنے والا شخص ایک درخت بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔

قبر میں لکڑی کے تختوں کے استعمال کی روایت نے اس علاقے میں بیرمی نامی درخت کو معدومی کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

بیرمی جس کا سائنسی نام ٹیکسس ویلیچیانا ہے، دنیا کے دیگر پہاڑی علاقوں کی طرح خیبر پختونخوا کی گلیات، سوات، اور گلگت میں بھی پایا جاتا ہے۔

جنگلی حیات کی بقا کے لیے کام کرنے والا ادارہ ورلڈ وائلڈ فنڈ فار نیچرگلیات میں اس درخت کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

عبدالشکور یونین کونسل بکوٹ کے گاؤں لونڈی مندری کے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرمی کو کاٹ کر اس کے تختے قبر ڈھکنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے کیونکہ اس سے قبر ٹوٹتی نہیں ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ریجنل ڈائریکٹر محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ بیرمی کی لکڑی پائیدار ہے اور یہ پانی میں بھی خراب نہیں ہوتی، اس وجہ سے یہاں قبر میں اس کا استعمال ایک روایت بن چکا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے تقریباً 700 افراد پر مشتمل آبادی کے گاؤں لونڈی مندری کو مالی اور فنی مدد فراہم کی گئی جس کے بعد اب یہاں قبر کی تعمیر میں آر سی سی سلیب استعمال کیے جاتے ہیں۔

محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ ’ہم 15 دیہات میں بیرمی کی لکڑی کے بجائے سیمنٹ کے سلیب متعارف کرانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ پہلے ان دیہات میں جو سالانہ بیرمی کے دس سے پندرہ درختوں کی کٹائی ہوتی تھی اب نہیں ہوتی۔‘

اس علاقے میں انسانی آبادی کے قریب بیرمی کا درخت ناپید ہو چکا ہے اور مقامی لوگ پہاڑی چوٹیوں سے یہ درخت کاٹ کر لاتے ہیں۔

محمد ابراہیم کے مطابق ’چوٹیوں سے درخت کو نیچے لانے میں سخت محنت کرنی پڑتی ہے اور جو درخت کاٹا گیا ہے ضروری نہیں ہے کہ وہ ٹھیک بھی ہو کیونکہ بعض اوقات یہ درخت کھوکھلا ہو چکا ہوتا ہے۔‘

پاکستان میں حکومتی دعوے کے مطابق چار فیصد سے زائد حصے پر جنگلات ہیں جبکہ ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے اداروں کا دعویٰ ہے کہ اس رقبے میں سے صرف ڈیڑھ فیصد پر ہی درخت ہیں جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ملک کے 25 فیصد رقبے پر جنگلات ہونے چاہییں۔

ایوبیہ نیشنل پارک میں درختوں کو تحفظ حاصل ہے اور آٹھ ہزار سے زائد ایکڑ پر پھیلے پارک اور آس پاس میں اس وقت بیرمی کا درخت موجود ہے۔

یہاں درخت کی کٹائی پر 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا موجود ہے لیکن اس کے باوجود یہاں درختوں کی کٹائی ہوتی ہے اور ایک ماہ قبل بھی 300 کے قریب درخت کاٹے گئے تھے۔

ایوبیہ عارف آباد کی رہائشی طالب علم نیلم بتاتی ہیں کہ روایتی طور پر لکڑی کا استعمال گھروں میں ایندھن کے علاوہ عمارتوں کی تعمیر اور فرنیچر تیاری میں کیا جاتا ہے۔

Image caption اب قبر کی تعمیر میں آر سی سی سلیب استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے

ان کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں آج بھی ایندھن کے لیے لکڑی استعمال ہوتی ہے اور اکثر خواتین یہ لکڑیاں لینے جاتی ہیں۔

نیلم کے مطابق شرح خواندگی نہ ہونے کے باعث انھیں معلوم نہیں ہوتا کہ کونسا درخت اہم یا فائدہ مند ہے۔

بیرمی درخت کی شجرکاری دشوار ہے، مقامی لوگوں کے مطابق یہ مخصوص زمین میں ہی اُگ سکتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے قلم کے ذریعے اس کی شجرکاری کی کوشش کی گئی تھی لیکن محمد ابراہیم کے مطابق انھیں صرف دس سے 15 فیصد کامیابی مل سکی ہے۔

خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے میں ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ شجرکاری کو فروغ دیا جائے۔

اس سلسلے میں ورلڈ وائلڈ فنڈ فار نیچر کے ریجنل سربراہ محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اس مہم میں ان درختوں کو شامل کیا جائے جو علاقے سے ناپید ہو رہے ہیں۔