ترقیاتی منصوبوں کی سمت صرف انتخابی مقبولیت ہے

Image caption میٹرو بس سروس کے لیے دو ارب روپے کی امدادی رقم مختص کی گئی ہے

وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے دوران جن ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں ان میں سے بیشتر ایسے منصوبے ہیں جن کا مقصود سستی سیاسی شہرت کا حصول نظر آتا ہے۔

حکومت نے ترقیاتی اور مراعاتی منصوبے اپنی سیاسی طاقت کا منبع سمجھے جانے والے صوبے پنجاب کے علاوہ ان دو صوبوں میں بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں ان کی جماعت کی حکومت نہیں ہے۔

ان منصوبوں میں کراچی میں ’گرین لائن بس ٹرانزٹ سسٹم‘ نامی بس سروس کا منصوبہ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں نئی لگنے والی صنعتوں کو پانچ سال کی انکم ٹیکس کی چھوٹ کے اعلانات شامل ہیں۔

وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ سولہ ارب کی لاگت سے صدر اور سورجانی ٹاؤن کے درمیان چلنے والی یہ بس منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کے عوام کے لیے تحفہ ہے۔

اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، بجلی اور پانی کے منصوبوں اور طالب علموں میں لیپ ٹاپ وغیر کی تقسیم کے منصوبوں کے بارے میں وفاقی حکومت کے سابق چیف اکانومسٹ اور معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر پرویز طاہر کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی سمت انتخابی مقبولیت کے سوا کچھ نہیں۔

حکومت نے پندرہ سو ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں وفاقی منصوبوں کے لیے سات سو ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی رقم توانائی کے منصوبوں کے لیے رکھی گئی ہے جو 248 ارب روپے ہے۔ یہ رقم پچھلے سال اس مد میں رکھی گئی رقم سے اڑتالیس ارب روپے زائد ہے۔

وزیر خزانہ نے توانائی کےشعبے کے لیے اس اضافی رقم کی وجہ بتاتے کہا کہ ’توانائی کے ان منصوبوں سے عوام کو سستی بجلی میسر آئے گی اور ان کی مدد سے حکومت دسمبر دو ہزار سترہ تک لوڈشیڈنگ کو تقریباً ختم کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔‘ واضح رہے کہ آئین کے مطابق سنہ دو ہزار اٹھارہ میں عام انتخابات متوقع ہیں۔

حکومت نے ملک بھر میں نئی سڑکیں، شاہراہیں اور پل تعمیر کرنے کے لیے اگلے مالی سال کے بجٹ میں میں 185 ارب روپے رکھے ہیں۔ اس رقم سے لاھور اور کراچی کے درمیان موٹروے تعمیر کی جائے گی اور اسلام آباد اور لاھور کے درمیان پہلے سے موجود موٹروے کی اوپری سطح دوبارہ بچھائی جائے گی۔

اس کے علاوہ اندرون سندھ اور بلوچستان کے دور افتادہ اضلاع میں بھی بعض نئی سڑکیں بنانے کا اعلان کیا گیا اور بعض پرانی سڑکوں کو بحال کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ان میں بہت سی سڑکیں ایسی ہیں جو چین اور پاکستان کے درمیان بننے والے راہداری منصوبے کا حصہ بھی ہیں۔

حکومت نے پاکستان ریلویز کے لیے بھی بعض ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے جن میں 170 نئے انجنز کی خریداری اور 100 پرانے انجنز کی بحالی کے علاوہ 1500 نئی بوگیوں کی خریداری اور تیاری بھی شامل ہے۔

ان بڑے منصوبوں کے علاوہ وزیراعظم کی جانب سے بیروز گار نوجوانوں کے لیے چھوٹے قرضوں ، نوجوانوں کو ہنر فراہم کرنے، ہیلتھ انشورنس، بلا سود چھوٹے قرضوں اورع لیپ ٹاپ کی فراہمی جیسی سکیمیں بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اگلے مالی سال کے دوران ان سکیموں پر بیس ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں