حکمراں جماعت کے رکن اسمبلی کے دو شناختی کارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لاہور ہائی کورٹ کے روبرو مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی منان خان کے ایک وقت میں دو شاختی کارڈر رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز الحسن نے اس معاملے پر نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی ’نادرا‘ اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی کے پاس دو شاختی کارڈر رکھنے کا انکشاف اس درخواست میں ہوا جو ان کے مدمقابل امیدوار اور تحریک انصاف کے رہنما عارف خان نے دائر کی ہے۔

منان خان پنجاب کے شہر ناروال کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 134 سے منتخب ہوئے تھے۔

سماعت کے دوران تحریک انصاف کے رہنما کے وکیل چودھری ذوالفقار علی نے یہ اعتراض اٹھایا کہ مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی منان خان کے پاس دو شاختی کارڈر ہیں اور ملکی قانون کے تحت کوئی بھی شہری ایک وقت میں ایک ہی شاختی کارڈر رکھ سکتا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق دو شاختی کارڈر رکھنا جرم ہے اور مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی نے اس بات کو کاغذات نامزدگی میں خفیہ رکھا اور اب تک دوسرا شاختی کارڈر سرنڈر نہیں کیا۔

تحریک انصاف کے رہنما کے وکیل نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ رکن صوبائی اسمبلی منان خان کو ایک ہی وقت میں دو شاختی کارڈر رکھنے کا کیا مقصد ہے اور اس سے کیا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل چودھری ذوالفقارعلی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں حقائق کو چھپانے اور غلط بیانی کرنے پر منان خان آئین کے آرٹیکل 60 اور 63 کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔

تحریک انصاف کے عارف خان نے عدالت سے استدعا کی کہ مسلم لیگ نون کے منان خان کو نااہل قرار دیا جائے اور قانون کے تحت ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔

اسی بارے میں