’سیلاب نے خواتین کے کام کے بارے میں رویہ بدل دیا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں سنہ 2010 کا سیلاب بہت سوں کا بہت کچھ بہا لے گيا وہیں بہت سوں کو جينے کا نيا ڈھنگ اور نيا ذريعہ معاش بھي دے گيا۔

عموماً آپ نے کسی بھی کریانے یا مکینک کی دکان پر مردوں کو کام کرتے دیکھا ہوگا لیکن جنوبی پنجاب کی ایک پسماندہ تحصیل کوٹ ادو میں ایک خاتون رخسانہ اشرف یہ کام خود کرتی ہیں۔

’شیل تعمیر‘ نامی ایک پراجیکٹ کے ذریعے انھوں نے موٹرسائیکلوں کا تیل تبدیل کرنا سیکھا اور بعد میں اسی کام کو اپنا ذریعۂ معاش بنا لیا۔

سیلاب سے متاثرہ رخسانہ دو سالوں تک سڑکوں کی مرمت کرتی رہیں اور اسی محنت مزدوری سمیت بچت کا ثمر تھا کہ دو سال بعد انکے پاس اتنی جمع پونجی ہوگئی کہ وہ اپنے گھر کے باہر ایک کریانے اور آئل چینج کی دکان کھول سکیں۔

اپنے کام کی جانب مردوں کے رویے کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’پہلے وہ اچھا نہیں سمجھتے تھے، کہتے تھے کہ ایک عورت یہ کام کیوں کرتی ہے ۔اگلی دکان تک جانے میں 50 روپے کا پٹرول لگتا ہے۔ جب انھیں اپنا فائدہ نظر آیا اور گھر کے قریب ہی یہ سہولت مل گئی تو انھوں نے میرے کام کو قبول کر لیا۔‘

رخسانہ کے برعکس ثمینہ ارشاد ایک پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ سیلاب سے پہلے اور بعد میں وہ مختلف جگہوں پر ملازمت کرتی رہیں لیکن پھر انھوں نے اپنےگھر کے بیرونی کمرے میں ایک بوتیک کھولا جو اس علاقے کا پہلا اور واحد بوتیک ہے۔

بوتیک بنانے اور کپڑے فروخت کرنے کا ارادہ انھوں نے کیوں اور کیسےکیا؟

اس بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایاکہ ’میں اور میرے شوہر دونوں نوکری کرتے تھے پھر بھی خرچا پورا نہیں ہوتا تھا۔ میرے تین بچے معذور ہیں اور جب مجھے نوکری چھوڑنا پڑی تو ہاتھ مزید تنگ ہوگیا۔ ایک ایک چیز کا حساب دینا پڑتا تھا۔تاہم اس کام میں منافع بھی بہت ہے اور میں بہت اچھی طرح بچوں کی دیکھ بھال بھی کرپاتی ہوں۔‘

کئی سالوں سے اسی بوتیک سے خریداری کرنے والی کرن کے خیال میں مرد دکانداروں کے بجائے ایک خاتون دکاندار سے لین دین میں انھیں بڑی سہولت ہوتی ہے۔

Image caption ’شیل تعمیر‘ نامی ایک پراجیکٹ کے ذریعے رخسانہ نے آئل تبدیل کرنا سیکھا اور بعد میں اسی کام کو اپنا ذریعہ معاش بنا لیا

کرن کا کہنا تھا کہ’ یہاں ہمیں کافی رعایت مل جاتی ہے، اُدھار وغیرہ بھی چلتا ہے۔ ہماری کالونی میں یہ واحد خاتون ہیں جو اس طرح دکان میں کام کر رہی ہیں ۔ان کا کام دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ ہم بھی ایسا ہی کوئی کام کریں۔‘

کوٹ ادو میں خواتین کے مسائل کے حل کے لیے ایک غیر سرکاری ادارے کے ساتھ کام کرنے والی رضوانہ پروین کا خیال ہے کہ ’سیلاب نےجہاں لوگوں کےگھر بار اور معیشت کو نقصان پہنچایا وہیں ان کے رویوں میں خواتین کی محنت کے بارے میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اب اس علاقے کی 80 فیصد خواتین مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں۔‘

رضوانہ بتاتی ہیں کہ سیلاب سے پہلے کوٹ ادو کی بیشترخواتین صرف مال مویشی اور زرعی محنت کے کاموں سے منسلک تھیں لیکن سیلاب کے بعد انھوں نے اپنی غربت مٹانے اور معیشت کو بہتر کرنے کے لیے مختلف شعبے اپنائے ہیں۔‘

غیر روایتی کاموں کا انتخاب کرنے والی خواتین کا ذکر کرتے ہوئے رضوانہ نے بتایا کہ ’پانچ سال پہلے کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ کوئی خاتون دکان کھولےگی لیکن آج دیہاتوں میں خواتین نے چھوٹے چھوٹے پارلرز کھول رکھے ہیں حتی کہ عین بازار میں خواتین کے دو بیوٹی پارلرز کھلے ہوئے ہیں۔‘

جنوبی پنجاب کے زرعی معاشرے کی خواتین کے لیے محنت مشقت کوئی نئی بات نہیں ہے مگر سیلاب کے بعد ضرورت کے تحت اب اس کی شکل بدل رہی ہے۔

ان کے مطابق اگر عورت کے پاس اپنی محنت سے کمائے دو چار پیسے ہوں تو مرد نہ صرف انھیں زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ فیصلہ سازی میں ان کی رائے کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔

اسی بارے میں