دس ملزمان کو سزا ہوئی یا دو کو؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملالہ یوسفزئی کو اکتوبر سنہ 2012 میں طالبان نے حملے کا نشانہ بنایا تھا

پاکستان کی وادی سوات کی ملالہ یوسفزئی پر حملے کے دس ملزمان کو سزا ہوئی یا دو کو؟

ایک ماہ سے زائد عرصے تک نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا ابہام کا شکار رہی۔ حکومتی سطح پر اس اگر ملک کے اندر نہ سہی لیکن بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہم خبر کی تردید کا کسی نے نہ سوچا۔

دو سطور کی روایتی وضاحت کی توفیق کسی کو نہ ہوئی اور آج ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سزا محض دو کو ہوئی باقی آٹھ تو ثبوت کی کمی کی وجہ سے رہا کر دیے گئے۔

ایک مرتبہ پھر ایک غیرملکی اخبار نے ان رہائیوں کی خبر بریک کی۔ معلوم نہیں کہ یہ کسی کے لیے وجہ شرمندگی ہے یا نہیں؟

’ملالہ کے دو حملہ آوروں کو سزا ہوئی، آٹھ عدم ثبوت کی بنا پر بری‘

یہ صورتحال ایک مرتبہ پھر پاکستان میں میڈیا کے کردار سے متعلق کئی سوال اٹھاتی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ حکومتی اداروں کو قومی اور بین الاقوامی میڈیا کو جو وہ پیش کرتے ہیں اس پر اکتفا کی، سوال نہ اٹھانے کی اور خاموشی اختیار کرنے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔

یہ روش خصوصاً دہشت گردی سے متعلق امور پر تو سو فیصد لاگو ہوتی ہے۔ جو فوج کی جانب سے 144 حروف میں شدت پسندوں کے خلاف عسکری کارروائیوں کی بابت بتایا جا رہا ہے اسے تمام میڈیا خاموشی سے من و عن شائع اور نشر کر دے۔ سوال کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ایک حلقے کا خیال ہے کہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والوں کی سزا میں شاید پاکستانی فوج کا اتنا کردار نہ ہو جتنا کہ سمجھا جا رہا ہے۔

انھوں نے تو گذشتہ برس ستمبر میں ایک اخباری کانفرنس میں میڈیا کے سامنے وضاحت کر دی لیکن اس کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت شروع اور ختم ہونے کے بعد اس سلسلے میں میڈیا اور آگاہ کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟

وفاقی یا صوبائی حکومت کی؟ چونکہ یہ ماتحت عدالت صوبے کی تھی تو اس پر توجہ بھی شاید خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات کی تھی کہ میڈیا میں اس سال 30 اپریل کو گردش کرنے والی خبر کی تصحیع کر دیتے۔ لیکن یہ باتیں شاید سب کتابی ہیں۔

اصولی طور پر ہونا یہی چاہیے تھا لیکن چند لوگوں کے خیال میں ملک میں 21ویں آئینی ترمیم کے تحت بعد فوجی عدالتوں کے قیام سے حالات قدرے تبدیل ہوئے ہیں۔

فوج کا ماتحت عدالتوں میں کردار اور اثر و رسوخ بڑھا ہے۔ حقوق انسانی کے کارکنوں کا ماننا ہے کہ مقدمہ چلا تو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں لیکن دراصل یہ ایک فوجی سماعت تھی۔

ایک ایسے ملک میں جہاں وزیر اطلاعات پرویز رشید وزیر مخالفت تحریک انصاف بن کر رہ گئے ہوں، صوبائی حکومت اپنے جھنجھٹوں میں پھنسی ہوئی ہو اور وزارت داخلہ کا نہ صرف قلمدان پر ہر دان یعنی ترجمان بھی چوہدری نثار علی خان صاحب کی کرسی کے نیچے پڑا ہو وہاں معلومات کی کھلی اور بروقت فراہمی یقینی کیسے بن سکتی ہے۔

اسی بارے میں