’سوٹ کیس میں جاتے اور بینکوں میں واپس آتے ہیں‘

Image caption ایک محتاط اندازے کے مطابق ممجوعی طور پر سالانہ 20ارب ڈالر پاکستان آتے ہیں

پاکستانی ماڈل آیان علی پر الزام ہے کہ وہ پانچ لاکھ ڈالر دبئی اسمگل کر رہی تھیں۔ ایف آئی اے اُن کے خلاف منی لانڈرنگ اور کرنسی سمگلنگ کے مقدمات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

آیان علی پر عائد کردہ الزامات کا ابھی عدالت میں ثابت کیا جانا باقی ہے۔ لیکن منی لانڈرنگ یا غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر لے جانے اور پھر انھیں زرمبادلہ کی شکل میں ملک واپس لانے کے الزامات پاکستان کے موجودہ حکمرانوں پر بھی لگائے گئے ہیں لیکن ان الزامات جو ’سفید کالر‘ جرائم کے ضمرے میں آتے ہیں عدالتوں میں ثابت کیا جانا آسان نہیں ہے۔

ہنڈی کے کاروبار سےوابستہ ایک ڈیلر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس طرح کے واقعات میں مبینہ طور پر کالا دھن غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک منتقل کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بدعنوانی سے حاصل ہونے والی رقم پہلے ہنڈی کے ذریعے باہر جاتی ہے۔ یہ پیسے حکام کی ملی بھگت سے ہوائی اڈوں کے ذریعے باہر جاتے ہیں اور پاکستان افغانستان باڈر سے باہر سمگل ہوتے ہیں۔‘

ہنڈی ایجنٹ نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر رقم باہر بھیجوانے والے گروہ پہلے سے زیادہ منظم اور بڑے پیمانے پر کرنسی بیرون ملک منتقل کرتے ہیں۔ ’بڑے شہروں کے ہوائی اڈوں پر اُن کے رابطے ہوتے ہیں۔

حالیہ کچھ عرصے میں پاکستان کی معیشت کے جن شعبوں میں ترقی آئی ہے اُن میں ریمٹنس یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم میں اچانک حیرت انگیز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے رواں مالی سال کے اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ ترسیلاتِ زر 17 ارب ڈالر تک پہچنے کا امکان ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ممجوعی طور پر سالانہ 20ارب ڈالر پاکستان آتے ہیں۔ قانونی اور غیر قانونی طریقوں سے۔۔۔۔۔

لیکن اقتصادی ماہرین ترسیلات زر میں اضافہ کی وجہ کچھ اور بیان کرتے ہیں۔

طویل عرصے تک وزارتِ خزانہ میں مشیر رہنے والے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسین کا کہنا ہے کہ وہ فلپائن، سری لنکا بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ترسیلاتِ زر پر انحصار کرنے والے ممالک میں بھی بیرون ملک سے حاصل ہونے والی رقوم میں اوسط سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غیر قانونی طور پر سرمایہ باہر منتقل کرنے کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے میں انسدادِ منی لانڈرنگ سیل بنایا گیا ہے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہزاروں ایجنٹ ہیں جو ایک سے ڈیڑھ فیصد چارج کر کے پیسے باہر بھجوا دیتے ہیں اور پھر اُس کے بعد دبئی، سعودی عرب جیسے ممالک سے یہ رقم پاکستانی بینکوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔‘

ڈاکٹر اشفاق حسین نے کہا کہ ’اس سے اچھا موقع اور کیا ہو سکتا ہے کہ آپ کالے دھن کو ریمٹنس (ترسیلات زر) کے ذریعے وائٹ کر لیں اور ٹیکس بھی نہ دینا پڑا۔ پاکستان میں ترسیلاتِ زر میں 15 سے 16 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ تو یہاں سے کالا دھن جاتا ہے اور ترسیلاتِ زر کی آڑ میں سفید ہو کر ملک واپس آ رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ 90 کی دہائی میں حکومت نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت باہر سے آنے والی آمدن کو ٹیکس سے مستشنیٰ قرار دیا گیا تھا۔

انسدادِ منی لانڈرنگ کی ماہر ایس صدیقی کہتی ہیں کہ ترسیلات زر اور سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب بھیجی گئی رقم کو الگ سے دیکھنا بہت ضروری ہے۔

’اس وقت جو رقم آ رہی ہے اُس میں سب کچھ شامل ہے، کرپشن کا پیسہ بھی جو باہر جا کر، وائٹ ہو کر دوبارہ پاکستان آ رہا ہے۔اور ورکرز ریمٹنس بھی، ان مجموعی ریمیٹنس میں ورکرز ریمٹنس (وہ پاکستانی جو بیرون ممالک میں کمانے والا پیسہ پاکستان بھجواتے ہیں) تو محض دس فیصد ہی ہوں گی۔‘

ہوائی اڈوں کے ذریعے سمگلنگ روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے کئی ادارے سرگرمِ عمل ہوتے ہیں۔ جیسے کسٹم، ایف آئی اے اور انسدادِ منیشات کا ادارے کے اہلکار موجود ہوتے ہیں۔

غیر قانونی طور پر سرمایہ باہر منتقل کرنے کی روک تھام کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے میں انسدادِ منی لانڈرنگ سیل بنایا گیا ہے۔

ہوائی اڈوں اور ائیرپورٹس کے ذریعے غیر قانونی طور پر رقوم کی منتقلی کی نگرانی کی محکمہ کسٹم کرتا ہے۔ جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے زیر اثر کام کرتا ہے۔

ایف ائی اے انٹی منی لانڈرنگ سیل کےانچارج جلیل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کمرشل بینک اور سٹیٹ بینک کسی بھی اکاونٹ مشکوک ٹرانزیکشن کے بارے میں ایف آئی اے کو رپورٹ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ ائیر پورٹس یا سرحدوں کے ذریعے غیر ملکی کرنسی کی منتقلی منی لانڈرنگ نہیں بلکہ فارن کرنسی ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔‘

فارن کرنسی ریگولیشن ایکٹ کے تحت دس ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی کرنسی لانے لیجانے پر پابندی ہے۔

ایف بی آر کے ترجمان شاہد حسین کہتے ہیں کہ ائیرپورٹس اور بندرگاہوں پر کسٹم حکام موجود ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’سو فیصد تو ہر مسافر کو چیک نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمار عملہ تجربہ کار ہے مستعدی سے کام کرتا ہے اور مسافروں کو چیک کرتا ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے کرپٹ ترین ملک میں ہوتا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ کرپشن کا کالا دھن ترسیلات زر کی آڑ میں سفید ہو کر واپس آ رہا ہے۔

ہنڈی ایجنٹ نے کہا کہ معاملہ دراصل یہ ہے کہ ’سوٹ کیس میں جاتے ہیں، بینکوں میں واپس آتے ہیں۔‘

اسی بارے میں