مذہبی منافرت کا مقدمہ، اورنگزیب فاروقی کا جوڈیشل ریمانڈ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری دستاویز کے مطابق اہلسنت والجماعت کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جبکہ یہ جماعت مظاہرے اور مذہبی اجتماعات بھی کرتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی

راولپنڈی کی ایک عدالت نے مذہبی منافرت پھیلانے کے مقدمے میں کالعدم مذہبی تنظیم اہلسنت والجماعت کے مرکزی رہنما اورنگ زیب فاروقی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

پولیس کے مطابق اورنگزیب فاروقی کے خلاف یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کے محکمے ’سی ٹی ڈی‘ کی جانب سے درج کروایا گیا ہے۔

اہلسنت والجماعت کے سربراہ، کارکنان کے خلاف مقدمات درج

سیاسی مصلحتوں کی قیمت کیا ہے؟

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے چند روز قبل مری میں مذہبی منافرت پر مبنی تقریر کی تھی۔

انھیں جمعے کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب وہ ’جمعے کا خطبہ‘ دینے کے لیے راولپنڈی کے قریبی قصبے ٹیکسلا جا رہے تھے۔

کارروائی کے وقت اورنگزیب فاروقی کے ساتھ موجود اُن کے جماعت کے دیگر عہدیداران کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا اور اُنھیں واپس جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

گرفتاری کے بعد انھیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا اور سنیچر کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راول پنڈی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے سماعت کے بعد انھیں 19 جون تک جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

اورنگزیب فاروقی کی گرفتاری کے خلاف ان کی جماعت کے کارکنوں نے جمعے کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کیے اور سنیچر کو بھی مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔

تنظیم اہل سنت والجماعت

سرکاری دستاویز کے مطابق اہلسنت والجماعت کو کالعدم تنظیم قرار دیا گیا ہے جبکہ جماعت کی قیادت کا موقف ہے کہ اُنھیں کسی بھی حکومت نے کبھی بھی کالعدم قرار نہیں دیا۔

تنظیم اہل سنت والجماعت 12 جنوری 2002 کو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے سپاہِ صحابہ پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی تھی۔

سپاہِ صحابہ کی بنیاد 1985 میں رکھی گئی تھی اور یہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار سے پہلے عام انتخابات میں حصہ بھی لیتی رہی ہے۔

سپاہ صحابہ کے ہی کچھ کارکنوں نے بعد میں لشکر جھنگوی کے نام سے تنظیم بھی تشکیل دی تھی۔

اسی بارے میں