لعل شہباز قلندر کے عرس میں گرمی سے 12 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عرس کے آغاز کے موقع پر ڈالی جانے والی دھمال کے دوران بھی لوگ بےحال ہوجاتے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے عرس میں شرکت کے لیے آنے والے 12 زائرین گرمی کی شدت سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

عرس کی تین روزہ تقریبات کا افتتاح سنیچر کو سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کیا اور اس میں شرکت کے لیے ملک کے کونے کونے سے لوگ سیہون پہنچے ہیں۔

علاقے میں موسم شدید گرم ہے اور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سنیچر کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔

سیہون کراچی سے 250 کلومیٹر کے فاصلے پر انڈس ہائی وے پر واقع ہے۔

ریسکیو اہلکاروں نے اب تک شدید گرمی، حبس اور لو کی وجہ سے 12 افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔

ایدھی مرکز سیہون میں موجود سندھ کے انچارج معراج احمد کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ گرمی کی وجہ سے حرکت قلب بند ہو جانے سے ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عرس میں شرکت کے لیے ملک کے کونے کونے سے لوگ سیہون پہنچتے ہیں

ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے اکثریت صوبہ پنجاب سے آئے ہوئے زائرین کی ہے اور تمام میتوں کو ان کے آبائی شہروں کو روانہ کیا جا رہا ہے۔

ہلاک شدگان کا تعلق لاہور، ساہیوال، چیچہ وطنی، ملتان، بہاول پور، فیصل آباد اور دیگر شہروں سے بتایا گیا ہے اور ان میں سے صرف ایک شخص کا تعلق سندھ کے شہر مورو سے ہے۔

ادھر سیہون کے سرکاری اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر معین نے بتایا کہ سنیچر کی دوپہر تک ہسپتال میں صرف دو لاشیں لائی گئی تھیں جن میں سے ایک شخص ڈوب کر ہلاک ہوا تھا۔

گذشتہ سال عرس کے دوران گرمی سے تنگ آ کر نہر میں نہانے والے متعدد افراد کی ہلاکت کے بعد ضلعی انتظامیہ نے اس سال سیہون میں بہنے والی نہروں میں نہانے پر پابندی لگائی ہوئی ہے اور نہروں پر رینجرز بھی تعینات ہیں۔

خیال رہے کہ ایدھی حکام کے مطابق سنہ 2014 میں اسی عرس کے دوران 160 افراد مختلف وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں