شوال ایک بار پھر ڈرون حملے کا نشانہ، سات ’شدت پسند‘ ہلاک

Image caption پاک افغان سرحدی علاقے شوال میں امریکی ڈرون طیارے سے ایک ڈبل کیبن گاڑی کو دو میزائیلوں سے نشانہ بنایا گیا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی جاسوس طیارے کے ایک حملے میں کم سے کم سات مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کے مطابق یہ حملہ سنیچر کو شوال کے علاقے میں پاک افغان سرحد کے قریب ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ امریکی ڈرون طیارے نے ایک مکان پر دو میزائل داغے جس سے وہاں موجود سات افراد مارے گئے۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملے میں تباہ ہونے والے مکان کو شدت پسند ایک مرکز کے طور پر استعمال کررہے تھے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد غیر ملکی طالبان ہیں تاہم سرکاری طور پر ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

شمالی وزیرستان کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ دتہ خیل میں سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی کے باعث عسکریت پسند سرحدی علاقوں کی جانب بھاگ رہے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رواں ماہ کا یہ دوسرا اور سنہ 2015 کا نواں امریکی ڈرون حملہ ہے اور ان میں سے زیادہ تر شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں میں کیے گئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سنہ 2004 سے امریکی ڈرون طیاروں کے حملے جاری ہیں جس کی تعداد ایک اندازے کے مطابق اب چار سو سے تجاوز کر چکی ہے۔

ان حملوں میں سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی شدت پسند مارے جاچکے ہیں جن میں بعض اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون کے ماہ میں پاکستان فوج کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا جس کا ایک سال پورا ہونے کو ہے۔

فوج کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں ایجنسی کا 90 فیصد علاقہ عسکری تنظیموں سے صاف کر دیا گیا ہے تاہم دور افتادہ سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں بدستور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اب شوال اور دتہ خیل کے علاقوں کو شدت پسندوں سے مکمل طور پر صاف کرنے کے لیے حتمی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو ملکی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے متعدد بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔

پاکستان میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج بھی کر چکی ہیں۔

گذشتہ ماہ اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے امریکی ڈرون حملوں میں ہلاکتوں سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران پولیس کے سربراہ کو حکم دیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے پاکستان میں سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

اسی بارے میں