گانچھے میں بچھڑے خاندان ملوانے کے انتخابی وعدے

Image caption جتنے لیڈروں سے میری ملاقات ہوئی، ہر ایک نے وعدہ کیا ہے کہ ہم آپ کا راستہ کھلوائیں گےاور بچھڑے خاندانوں کو ملوائیں گے

یہاں فرانو ہے، وہاں تھنگ ہے۔ یہ گلگت بلتستان میں ہے اور وہ لداخ میں۔

فرانو اور تھنگ دیہات کے درمیان لائن آف کنٹرول ہے جو پاکستان اور بھارت کی متنازع سرحدی لکیر ہے جس نے محمد علی کو سات سال کی عمر میں والدین سے جُدا کر دیا تھا۔

لداخ کے محمد علی اپنے بھائی اور دادا سمیت تھنگ میں تھے اور اُن کے والد فرانو آئے ہوئے تھے تاکہ میکے گئی ہوئی اہلیہ کو واپس لے جائیں۔

پھر جنگ بندی ہوئی اور لائن آف کنٹرول قائم ہو گئی۔ نتیجہ نکلا کہ والدین اِدھر رہ گئے اور محمد علی اُدھر۔

اِن دنوں محمد علی والدین سے ملنے آئے ہوئے ہیں تو اُن کے ہاں انتخابات کی چہل پہل ہے اور ہر سیاسی امیدوار بیٹے اور والدین کی جدائی کے مسئلے کو حل کرنے کے وعدے کر رہا ہے۔

محمد علی کے مطابق ’جتنے لیڈروں سے میری ملاقات ہوئی، ہر ایک نے وعدہ کیا ہے کہ ہم آپ کا راستہ کھلوائیں گےاور بچھڑے خاندانوں کو ملوائیں گے۔‘

گلگت بلتستان کے انتخابات میں محمد علی کا ووٹ نہیں کیونکہ وہ پاکستانی نہیں۔ البتہ اپنے والدین کے حلقے میں جاری انتخابی مہم سے خوب محظوظ ہو رہے ہیں۔

Image caption فرانو اور تھنگ کے درمیان اڑھائی کلومیٹر کا فاصلہ ہے جہاں آمد و رفت بند ہے

’بینر وغیرہ کم ہیں لیکن جوش جذبہ بہت زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ بالکل اُسی طرح جیسا ہمارے لداخ میں ہوتا ہے۔‘

لائن آف کنٹرول سے چند سو میٹر کے فاصلے پر آباد فرانو ضلع گانچھے میں آتا ہے جس کا ہیڈکوارٹر شہر خپلو ہے۔ ضلعے کی تین نشستوں کے لیے 12 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جو گلگت بلتستان کے باقی اضلاع کی نسبت امیدواروں کی سب سے کم تعداد ہے۔

بھارت کے ساتھ متنازع خطے میں پاکستان کے اِس سرحدی ضلعے میں انتخابی گہماگہمی بھی ویسی نہیں جیسی باقی اضلاع میں ہے۔

نُور بخشی شیعہ فرقے کی آبادی پر مشتمل گانچھے میں انتخابی مہم پولیس اور فوج کے درجنوں چوکیوں کی مرہونِ منت ہے جن کا مقصد ہر آنے جانے والے کا ریکارڈ رکھنا ہے خصوصاً غیر مقامی لوگوں کا۔

مقامی لوگوں کے لیے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ خپلو شہر کی اندرونی سڑکوں کے علاوہ، وہی سڑکیں پُختہ ہیں جن کا اختتام کسی نہ کسی فوجی چوکی پر ہی ہوتا ہے۔

گانچھے کے بڑا بالا گاؤں کے شہری ضعیف العمر محمد علی کا مطالبہ ہے کہ سڑکیں بن جائیں تو ایک گھنٹے کا سفر آدھے گھنٹے میں ہو اور چیزیں سستی ہو جائیں۔

Image caption بلتستان کے فرانو اور لداخ کے تھنگ کا ملاپ مسئلہ کشمیر کے حل میں پنہاں ہے

وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے دن گزارتے ہیں۔ باقی خطے کی نسبت انتخابی مہم کے پھیکے پن کو امن کی علامت قرار دیتے ہیں۔

’اِس سال جیسے پرامن انتخابات کبھی نہیں دیکھے۔کوئی نمائندہ یہاں آ کر ہلہ گُلہ اور شور شرابا نہیں کرتا۔ وہ گاڑی میں آگے جاتے ہیں پیچھے آتے ہیں اور ہاتھ ہلا کر بول جاتے ہیں کہ ووٹ ہمیں دے دینا۔‘

ضلع گانچھے اور اُس کے ڈویژن سکردو پر مشتمل بلتستان کے نو انتخابی حلقوں میں دنیا کا بلند ترین میدانِ جنگ سیاچن اور دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو سمیت آٹھ ہزار فُٹ سے زائد بلندی کی چار چوٹیاں آتی ہیں۔

قراقرام اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں آباد دو لاکھ سے زائد ووٹر آٹھ جون کے انتخابات میں حقِ رائے دہی استعمال کریں گےاور بہت سے پولنگ سٹیشن ایسے علاقوں میں ہیں جہاں سڑک نہیں جاتی۔

پاکستانی والدین کے بھارتی بیٹے محمد علی ایسی سڑک کے خواہشمند ہیں جو لداخ کو جائے اور کُھلی رہے۔

لائن آف کنٹرول پر کشمیر کی طرح بلتستان سے کوئی گزرگاہ کھلی نہیں رکھی گئی، جو اِس متنازع حصے کے آرپار رہنے والوں کے لیے کبھی کبھی ملاقات کا سبب بن سکے۔

Image caption گانچھے کے بڑا بالا گاؤں کے ضعیف العمر محمد علی کا مطالبہ ہے کہ سڑکیں بن جائیں تو ایک گھنٹے کا سفر آدھے گھنٹے میں ہو اور چیزیں سستی ہو جائیں

فرانو اور تھنگ کے درمیان ڈھائی کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ محمد علی کو واہگہ کے راستے پہلی مرتبہ اپنے والدین تک پہنچنے کے لیے تین لاکھ روپے خرچ کرنا پڑے۔

وہ 44 سال سے سرحد پار دوربین لگا کر فرانو میں والدین کی نشاندہی کی کوشش کر رہے تھے۔ سرحد کے اِس پار انتخابی مہم کے جوش سے محظوظ ہونے والے محمد علی کو انتخابی امیدوار راستہ کھلوانے کی امید تو دے رہے ہیں لیکن یہ تنازع اتنا سادہ نہیں۔

بلتستان کے فرانو اور لداخ کے تھنگ کا ملاپ مسئلہ کشمیر کے حل میں پنہاں ہے۔

اِس تنازع کی وجہ سے فوجی چوکیوں پر شناخت پریڈ کراتے کراتے، آتے جاتے فوجی ٹرکوں کو سڑک کے کنارے بیٹھ کر ہاتھ ہلاتے ہلاتے جوانی گزار دینے والے بڑا بالا کے پاکستانی محمد علی بلتستان کو متنازع قرار نہیں دیتے۔

’یہاں پاکستان کی فوج لڑنے نہیں آئی تھی۔ ہمارے باپ دادا نے ڈنڈے مار کر دشمن کو بھگایا تھا۔ کیونکہ ہم پاکستانی ہیں۔‘

وہ گلگت بلتستان میں سنہ 2009 کے صدارتی حکم نامے کے تحت قائم ہونے والے صوبائی سیٹ اپ کو ’تماشا‘ قرار دیتے ہیں۔

’یہ نقلی صوبہ بنایا گیا ہے جہاں پاکستان کی طرف سے کوئی حقوق نہیں ملتے۔ صدر اور وزیرِاعظم ہمارے ماں باپ ہیں۔ ایک بچے کو زیادہ اور ایک بچے کو کم نظر سے دیکھتے ہیں۔ میں اُن سے کہتا ہوں کہ ایسا نہ کریں اور اِسے صحیح صوبہ بنا کر جس طرح اچھے صوبوں میں حقوق ملتے ہیں، ہمیں بھی دیں۔‘

اِس مایوسی کے باوجود محمد علی پُرعزم ہیں کہ وہ صوبائی سیٹ اپ کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں’اچھا آدمی ڈھونڈ کر‘ووٹ ضرور ڈالیں گے کیونکہ بقول اُن کے ’وہ نمائندہ آگے جا کر لڑ کر زیادہ نہیں تو تھوڑے حقوق تو دلائےگا۔‘

اسی بارے میں