’ابا جی نیچے اترو‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس منصوبہ 47 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوا ہے

راولپنڈی سے اسلام آباد کے درمیان اربوں روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والی میٹرو بس سروس کئی ماہ کی تاخیر کے بعد شروع ہوئی تو میٹرو سٹیشن پر لگی لمبی قطاریں دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جڑواں شہروں کے باسی اس کے کتنے منتظر تھے؟

اس پر پہلی مرتبہ سفر کر کے محسوس ہوا کہ ابتدا میں محدود انداز میں شروع کی گئی سروس کافی کم ہے اور حکام نے شاید ابتدائی دنوں میں ہم جیسے ’میٹرو کا محض مزہ‘ لُوٹنے والوں کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھا ہی نہیں۔

پنڈی کے میٹرو سٹیشنوں پر لمبی لمبی قطاریں بھی مسافروں کو پریشان کرنے کے لیے کافی تھیں۔ پنڈی کے پہلے سٹیشن یعنی صدر میں تو قطار اتنی لمبی تھی کہ انتظامیہ نے قطار کو کئی چکر دیے۔

اسلام آباد سے پنڈی جاتے ہوئے تو نشست بھی ملی لیکن راولپنڈی سے واپسی کافی مہنگی پڑی۔ پچاس منٹ کا سفر کھڑے ہو کر اور وہ بھی ایک دوسری سے قریباً بغل گیر ہو کر ہی کیا۔ یہ تو بھلا ہو نئی بس کے نئے ایئرکنڈیشنر کا جو حالت زیادہ بگڑی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پنڈی کے میٹرو سٹیشنوں پر لمبی لمبی قطاریں بھی مسافروں کو پریشان کرنے کے لیے کافی تھیں

ہر سٹیشن پر ایک وقت میں دو سے زیادہ بسیں روک کر مسافر اتارنے کا انتظام ہے لیکن فی الحال ایک بس ٹرمینل ہی استعمال میں لایا جا رہا ہے اور پیچھے سے آنے والی بس کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔

اوورٹیکنگ شاید منع ہے تو بسیں ایک دوسرے کے پیچھے ہی رہتی ہیں۔

بس میں سفر کے دوران مسافروں کے ہجوم میں سٹیشن کے آغاز میں لگا واحد نام کا پڑھنے میں کافی دقت ہوئی۔ بس میں ایک باریک سی آواز میں ایک خاتون اگلے سٹیشن کی اطلاع دے تو رہی تھیں لیکن یہ اعلان کے بجائے کانوں میں ہوتی کھسرپھسر زیادہ محسوس ہوتی تھی۔

لندن اور دیگر ممالک کی طرز پر ہونا یہ چاہیے کہ سٹیشن کے علاقے میں اڈے کی دونوں جانب واضح انداز میں بڑے بورڈز پر سٹیشن کا نام لکھا ہو تاکہ ہر مسافر باآسانی پڑھ سکے۔

ایک اور مسئلہ ایک ہی خاندان کی عورتوں اور مردوں کو بس کے الگ الگ حصوں تک محدود رکھنا بھی تھا۔ بس کا اگلا حصہ خواتین جبکہ پچھلا حصہ مردوں کے لیے مختص تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بس میں سفر کے دوران مسافروں کے ہجوم میں سٹیشن کے آغاز میں لگا واحد نام کا پڑھنے میں کافی دقت ہوئی

سفر کے دوران کئی مسافر خاندانوں کی خواتین کو بس میں جگہ ملی تو وہ چڑھ گئیں لیکن ان کے مردوں کو جگہ نہ ملی تو وہ پیچھے رہ گئے۔

سٹیشن پر اترتے وقت رش اتنا تھا کہ خواتین کو بس کے پچھلے حصے میں موجود اپنے خاندان کے مرد دکھائی دینا مشکل تھا تو ان سے بات کرنا تو ناممکنات میں شامل۔

ایسے میں اترتی عورتیں صدا ہی لگا سکتی تھی: ’ابا جی اترو‘

رش میں ٹکٹ لینا بھی جان جوکھوں کا کام ہے۔ لمبی قطاریں دیکھ کر واپسی پر صدر سے ٹیکسی پکڑی اس امید سے کہ اگلے چند سٹیشنوں پر تعداد کم ہوگی لیکن کمیٹی چوک تک حال برا ہی تھا۔ لہذا وہیں اتر کر ایک قطار میں خاموشی سے لگ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہر سٹیشن پر محض تین کاؤنٹر اور ایک خودکار مشین نصب کی گئی ہے جو کہ اتنی بڑی تعداد میں سفر کرنے والوں کے لیے انتہائی کم ہے۔

ٹکٹ کاؤنٹر پر سیاہ نقاب پہنے عملے کی خاتون ایک مشین پر پلاسٹک کے ٹوکن رکھ کر چیک کرتی رہی لیکن معلوم نہیں ان میں کیا مسئلہ تھا کہ مسافروں کو نہیں دی رہی تھی۔

کوئی تین درجن ٹوکنوں کے بعد چند درست ٹوکن آئے تو انھوں نے ہمیں تو دے دیے لیکن ساتھ میں سفر کرنے والے خاندان کے دیگر لوگوں کا چہرہ دیکھے بغیر ٹکٹ نہ دینے پر مصر رہیں۔

130 روپے کے عوض آپ میٹرو کا مستقل کارڈ بھی بنا سکتے ہیں جسے اپنی مرضی کی رقم جمع کی جا سکتی ہے۔

چاہیے تو یہ تھا کہ مستقل کارڈ کو زیادہ فروغ دیا جاتا اور ابتدا میں مفت دیے جاتے تاکہ لوگ قطاروں کی کوفت سے بچ سکتے۔

Image caption ہر سٹیشن پر محض تین کاؤنٹر اور ایک خودکار مشین نصب کی گئی ہے جو کہ اتنی بڑی تعداد میں سفر کرنے والوں کے لیے انتہائی کم ہے

میٹرو سٹیشنوں پر واش رومز کی کمی محسوس ہوئی جو شاید کہیں دور بنائے گئے ہیں لیکن بند بتائے گئے۔

ابھی سروس نئی ہے تو صفائی بھی اچھی ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرے گا، میٹرو انتظامیہ کی مشکلات یقیناً بڑھتی جائیں گی۔

خامیاں اور کمزوریاں اپنی جگہ لیکن تعلیم و صحت کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کے ایسے منصوبے ضروری ہیں اور اب حکومت کو اسے جڑوں شہروں کے دیگر اہم مصروف علاقوں تک لے جانے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں