کوئٹہ اور مستونگ میں سرچ آپریشن میں تین ہلاک، 33 گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور مستونگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سرچ آپریشن کے دوران تین مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 33 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں پولیس نے اپنے چار اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سنیچر کی شب اور اتوار کو پولیس نے پشتون آباد اور سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقوں میں کارروائی کی۔

پولیس ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے دوران سیٹلائٹ ٹاؤن سے نو جبکہ پشتون آباد سے 24 مشتبہ افراد پکڑے گئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ان افراد سے چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

ادھر اہلکاروں کی ہلاکت کا مقدمہ پشتون آباد پولیس سٹیشن میں درج کر لیا گیا ہے۔

اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ سنیچر کو کوئٹہ کے مشرقی علاقے پشتون آباد میں اس وقت پیش آیا تھا جب دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار نامعلوم حملہ آوروں نے ایک پولیس موبائل پر فائرنگ کی تھی۔

اس فائرنگ سےایک انسپکٹر سمیت چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران صوبہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ادھر ضلع مستونگ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا ہے۔

کوئٹہ میں سرکاری ذرائع کے مطابق یہ سرچ آپریشن جوہان اور بارک کے علاقوں میں کیا گیا۔

اس سلسلے میں میڈیا کو فراہم کی جانے والی معلومات میں سرچ آپریشن کے دوران تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ ان کے متعدد کیمپوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بلوچ رپبلکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسند نہیں بلکہ عام شہری تھے۔

اسی بارے میں