گلگت بلتستان انتخابات میں پولنگ مکمل، گنتی جاری

Image caption مختلف فرقوں میں بٹی ہوئی آبادی والے گلگت بلتستان میں انتظامیہ کی زیادہ توجہ انتخابات کے پرامن انعقاد پر ہے

پاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان میں دوسری قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں پولنگ مکمل ہو گئی ہے اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابات کا انعقاد پر امن رہا۔ الیکشن کے لیے سات اضلاع میں 1151 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے، جن میں سے تقریباً نصف کو حساس یا انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ خطے میں انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے فوج تعینات کی گئی ہے جبکہ تمام اضلاع میں عام تعطیل بھی ہے۔

گلگت بلتستان میں الیکشن: تصاویر میں

’پولو ہو تو لوگ شیعہ سنّی سب بھول جاتے ہیں‘

پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی میں کل نشستوں کی تعداد 33 ہے جس میں تین ٹیکنوکریٹس، جبکہ چھ خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ باقی رہ جانے والے 24 نشستوں پر پیر کو انتخابات ہوئے ہیں۔

ان 24 نشستوں کے لیے سات اضلاع گلگت، ہنزہ، سکردو، گانچھے، استور، غذر اور دیامر میں 268 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں سے تقریباً 40 فیصد آزاد امیدوار ہیں۔

ان انتخابات میں 17 سیاسی جماعتیں بھی شریک ہیں جن میں سے پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے تمام 24 حلقوں سے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے 22، پاکستان تحریکِ انصاف کے 21، مجلس وحدت المسلمین کے 15، جے یو آئی ف کے دس، پرویز مشرف کی جماعت اے پی ایم ایل کے 13 اور جماعت اسلامی کے چھ امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

Image caption یہ پہلا موقع ہے کہ علاقے میں انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے فوج تعینات کی گئی ہے

ان 24 نشستوں میں گلگت کے تین، سکردو کے چھ، دیامر کے چار، غذر، ہنزہ اور گانچھے کے تین تین، جبکہ استور کے دو انتخابی حلقے شامل ہیں جہاں چھ لاکھ سے زیادہ باشندے ووٹ ڈالیں گے جن میں لگ بھگ 45 فیصد خواتین ہیں۔

تاہم اِن انتخابات میں صرف دو خواتین امیدوار حصہ لے رہی ہیں جن کا تعلق ضلع گانچھے سے ہے۔

گلگت میں پولنگ کے آغاز پر خواتین کے پولنگ بوتھ پر خاصی بھیڑ دکھائی دی جبکہ ضلع دیامیر میں خواتین کے لیے ووٹ ڈالنے کا عمل آسان بنانے کے لیے اضافی پولنگ سٹیشن بنائے گئے تھے۔

خیال رہے کہ دیامیر میں خواتین کی ووٹنگ کا بہت کم رجحان رہا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ طاہر علی شاہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہاں پردے کا مسئلہ درست تھا۔ وہاں خواتین عملے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ 55 نئے پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں جن کے باہر خاص طور پر فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔‘

Image caption چھ لاکھ سے زیادہ باشندے ووٹ ڈالیں گے جن میں لگ بھگ 45 فیصد خواتین ہیں

حساس پولنگ سٹیشنوں پر فوجی تعینات تھے جو ووٹروں کی قطاریں بنوانے سے لے کر، پولنگ ہال میں بیٹھے ہوئے سیاسی ایجنٹوں کو شور نہ مچانے کی ہدایات دیتے ہوئے، اور عملے اور ایجنٹوں کے درمیان بحث کی صورت میں ریفری کا کردار ادا کرتے دکھائی دئیے۔

گلگت میں پولنگ کے آغاز سے ہی قطاریں لگنا شروع ہو گئی تھیں اور مجموعی طور پر ماحول پرامن، منظم اور ادارہ جاتی و جماعتی دائرۂ کار میں محدود دکھائی دئیے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ طاہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لیے سکیورٹی منصوبہ فوج اور پولیس کی مدد سے بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں