ارم سجاد گل ہائی کورٹ کی تیسری خاتون جج

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اعلیٰ ترین عدالت لاہور ہائی کورٹ میں ایک اور خاتون جج کا اضافہ ہوگیا ہے۔

جسٹس ارم سجاد گل کے لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہونے سے ہائی کورٹ میں خواتین ججوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں21 برس کے بعد دوبارہ خواتین ججوں کی تعداد تین ہوئی ہے۔

اس سے پہلے مقتول وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں 1994 میں لاہور ہائی کورٹ میں تین خواتین ججوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

نئی خاتون جج جسٹس ارم سجاد گل لاہور ہائی کورٹ کی پانچویں خاتون وکیل ہیں جو ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیں گی۔

جسٹس ارم سجاد گل سے پہلے جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس عالیہ نیلم لاہور ہائی کورٹ کی جج ہیں۔

چار برس قبل سنہ 2012 سے لاہور ہائی کورٹ میں خواتین ججوں کو مقرر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ جسٹس عائشہ ملک نے دو مارچ سنہ 2012 اور پھر ایک سال کے وقفے کے بعد اپریل سنہ 2013 میں جسٹس عالیہ نیلم نے لاہور ہائی کورٹ کے جج کے منصب کا حلف اٹھایا۔

جسٹس ارم سجاد گل لاہور ہائی کورٹ کے ان دس ایڈشینل ججوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے پیر کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منظور احمد ملک نے ان سے حلف لیا۔

بےنظیر بھٹو کے دور میں تین خواتین وکلا میں فخرالنسا کھوکھر، ناصرہ جاوید اقبال اور طلعت یعقوب نے ہائی کورٹ کے جج کا حلف اٹھایاتھا۔

تاہم سپریم کورٹ کے معروف ’ججز کیس‘ کے فیصلے کی وجہ سے خواتین ججوں میں صرف جسٹس فخرالنسا کھوکھر ہی اپنے عہدے پر برقرار رہ سکی تھیں۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے سات برس کے وقفے کے بعد علامہ محمد اقبال کی بہو ناصرہ اقبال کو دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کا جج بنایا اور انھوں نے نومبر سنہ 2002 تک ایڈیشنل جج کے طور فرائض انجام دیے۔

جسٹس ناصرہ جاوید اقبال واحد خاتون وکیل ہیں جو دو مرتبہ لاہور ہائی کورٹ کی جج بنیں۔

جسٹس فخرالنسا کھوکھر جون سنہ 2004 میں لاہور ہائی کورٹ کی سینیئر ترین جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئیں اور اس وقت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس افتخار حسین چوہدری کے ساتھ اختلافات کے باعث ان کے اعزاز میں روایتی الوداعی تقریب نہیں ہوئی۔

جسٹس افتخار حسین چوہدری جنرل پرویز مشرف کے قریب ہونے کی وجہ سے اپنی ریٹائرمنٹ تک چیف جسٹس رہے اور اسی وجہ سے فخرالنسا چیف جسٹس ہائی کورٹ نہ بن سکیں۔

لاہور ہائی کورٹ کی سینیارٹی لسٹ کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عالیہ نیلم چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بن سکتی ہیں۔

جسٹس فخرالنسا کھوکھر اور جسٹس ناصرہ جاوید دونوں ہی اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد باری باری لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئیں۔

پیپلز پارٹی نے جسٹس فخرالنسا کھوکھر اور سپریم کورٹ کے ججز کیس سے متاثر ہونے والی طلعت یعقوب کو مخصوص نشستوں پر رکن اسمبلی بنایا۔

لاہور ہائی کورٹ میں نئے ججوں کی تقرری سے ججوں کی کل تعداد 60 ہوگئی ہے اور ہائی کورٹ کی تمام کی تمام اسامیاں پر ہوگئی ہیں۔

اسی بارے میں