انتخابی دھاندلی کیس: سات ریٹرننگ افسران طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن نے جن ریٹرننگ افسران کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے ان کا تعلق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سات حلقوں سے ہے

سنہ 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے تین رکنی عدالتی کمیشن نے صوبہ پنجاب کے سات قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ریٹرننگ افسران کو بدھ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

کمیشن نے یہ حکم حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا کی استدعا پر دیا جس میں انھوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ریٹرننگ افسران کی جانب سے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے ہارنے والے امیدواروں کو مدعو نہیں کیا تھا۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن نے جن ریٹرننگ افسران کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے ان میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 134، 140، 142 اور 162 جبکہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں کے افسران شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 142 سے پاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر عام انتخابات میں حصہ لینے والے سردار طارق کا کہنا تھا کہ اس حلقے میں جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا تو ریٹرننگ افسران نے انھیں نہ تو طلب کیا اور نہ ہی کوئی نوٹیفیکیشن جاری کیا، بلکہ محض اطلاع دی کہ وہ ہار گئے ہیں۔

صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 109 سے مذکورہ جماعت کے امیدوار چوہدری شفاعت حسین نے کہا کہ اس حلقے میں ان کا مقابلہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے نہیں بلکہ ایک آزاد امیدوار سے تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہارے نہیں بلکہ انھیں ہرایا گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ق کے وکیل نے کہا کہ ایسے حالات میں جب تک ریٹرننگ افسران کو طلب نہ کیا جائے اس وقت تک حقائق سامنے نہیں آ سکتے۔ جس کے بعد کمیشن نے سات حلقوں کے ریٹرننگ افسران کو بدھ کو کمیش کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔

دوسری جانب حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے چیئرمین عمران خان کو عدالتی کمیش کے سامنے بطور گواہ پیش کرنے کی درخواست واپس لے لی ہے۔

اس سے پہلے عمران خان نے اپنے وکیل سے کہا تھا کہ وہ کمیشن کے سامنے بطور گواہ پیش ہونا چاہتے ہیں، جس پر کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں درخواست دیں جس کے بارے میں کمیشن فیصلہ کرے گا۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کے وکیل نے عمران خان کو عدالتی کمیشن میں بطور گواہ پیش کرنے کی استدعا اس وقت کی جب پنجاب کے سابق نگراں وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

سابق نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب سے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے ان 35 حلقوں میں مبینہ دھاندلی کروانے کے بارے میں سوال نہیں کیا جس کے بارے میں پارٹی کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ نجم سیٹھی نے انتخابات میں 35 پنکچرز لگائے جں کے بدلے میں انھیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین لگا دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں