’کمپیوٹر مفت اور انٹرنیٹ پر ٹیکس‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

پاکستان میں حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے بارے میں عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ یہ ملکی ترقی میں نئی شاہراوں کی تعمیر کو اولین ترجیحی دیتی ہے۔

اسی وجہ سے حزب اختلاف کی جماعتیں حکمران جماعت کی اسی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہے۔ اب ملک کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اسی جماعت نے انٹرنیٹ صارفین پر اضافی ٹیکس عائد کر کے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔

حال ہی میں حکمراں جماعت کی جانب سے نئے مالی سال کے پیش کیے جانے والے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کےرہنما فاروق ستار نے کہا تھا کہ حکومت کی نوجوان طبقے کی ترقی کی پالیسی تسلی بخش نہیں ہے اور انھوں نے شاہراہوں کے لیے زیادہ ترقیاتی بجٹ مختص کر کے شیر شاہ سوری کے زمانے کی یاد تازہ کر دی ہے۔

کیا صوبہ پنجاب میں حکمراں جماعت کی ترجیحات میں واقعی شاہراہوں کی تعمیر اولین ترجیح ہے؟

اس پر بات کرتے ہوئے تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ پاکستان میں اہم ہونے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں ہے اس وجہ سے کسی حکومت کی بھی اس شعبے پر توجہ نہیں رہی اور ان حالات میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی زیادہ تر توجہ پل اور سڑکیں بنانے پر مرکوز ہے۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب بہت عرصہ پہلے جب ترکی سے ہو کر آئے تھے، وہ اس کے شہروں کی ترقی سے کافی متاثر ہوئے تھے لیکن اگر ہمیں ترقی یافتہ دنیا میں شامل ہونا ہے اور اس کا مقابلہ کرنا ہے تو اس کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات کو درست کرنا ہو گا، جس میں آج کی دنیا میں موجود انٹرنیٹ اور کمپیوٹروں جیسی جدید اور سستی سہولیات لوگوں کو دستیاب نہیں ہوں گی تو اس کا بہت منفی اثر پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈاکٹر مہدی حسن نے آج کے دور میں ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹ یوٹیوب پر پابندی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’مذہبی انتہا پسندوں کے دباؤ پر لگائی گئی پابندیاں اور ایسی پابندیاں جن کے بارے میں ذکر ہوتا ہے، ایک بہت ہی منفی طرز عمل ہے اور بہت خطرناک بات ہے۔‘

ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق پنجاب حکومت کے فیصلے سے نوجوانوں میں ایک پیغام جائے گا کہ حکومت کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور حکومت کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ اس کو استعمال کرنے والوں میں لوئر مڈل کلاس کی ایک بڑی تعداد میں شامل ہے۔ ایک طرف پنجاب حکومت طالب علموں کو لیب ٹاپ دے رہی ہے اور دوسری طرف انٹرنیٹ مہنگا کر رہی ہے، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات درست نہیں ہیں۔‘

یہ ایسا ہی ہے کہ پانی کے مفت سرکاری کنکشن دینے کے بعد اچانک صارفین کو آگاہ کیا جائے کہ پانی کی قیمت ادا کریں گے تو نلکے میں پانی آئے گا۔

حکومت کی ترجیحات پر مزید بات کرتے ہوئے تجزیہ کار راشد رحمان نے کہا کہ اس بات میں تو صداقت ضرور ہے اور ٹریک ریکارڈ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شریف حکومتوں کی ترجیحات میں سڑکوں اور اس سے متعلق ڈھانچے کی تعمیر ترجیحات میں رہی ہے اور اب بھی ہے۔

راشد رحمان نے پنجاب میں انٹرنیٹ کو مہنگا کرنے کے اقدام کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب ایک طرف صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف انٹرنیٹ کو مزید مہنگا کر دیا گیا ہے اور یہ بہت ہی غیر مناسب ہے۔ پاکستان جیسے ملک کو باقی دنیا کے قریب لانے کے لیے ہمارے ہاں انٹرنیٹ پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مفت فراہم کرنا چاہیے۔‘

راشد رحمان نے اربوں روپے کی لاگت سے راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس وقت ملک کو درپیش مسائل میں ایک میٹرو بس بنانا سب سے ضروری تھا؟ اس وقت ملک میں نوجوانوں کی آبادی اکثریت میں ہے اور ان کے مسائل کی جانب زیادہ توجہ نہیں ہے۔

’نوجوانوں کا اولین مسئلہ ملازمت ہے اور یہ مسئلہ میٹرو بس یا نئی سڑکوں کی تعمیر سے تو ظاہر ہے کہ حل نہیں ہو سکتا، تعلیم اور صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں سمیت تمام شہروں کی فوری ضرورت پوری ہو سکیں اور اس میں بالخصوص تعلیم اس لیے کہ ان کے پاس وہ تعلیمی قابلیت ہو جن کی بنیاد پر وہ ملازمت حاصل کر سکیں۔ لیکن ایسا نہیں ایک طرف تو میٹرو بس اور دوسری طرف انٹرنیٹ کی اکثریتی صارف نوجوانوں کے لیے نیٹ مہنگا۔‘

واضح رہے کہ پنجاب حکومت اور وفاق کے مشترکہ منصوبے کے تحت راولپنڈی اسلام آباد میں تقریباً 45 ارب روپے کی میٹرو بس سروس کا آغاز کیا گیا اور اس کے کرایے کو کم رکھنے کے لیے دو ارب کے قریب سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ اس سے پہلے لاہور میں بھی میٹرو بس سروس پر سبسڈی دی جا رہی ہے اور مقامی ذرائع ابلاغ میں اس سروس کے خسارے میں چلنے کی خبریں متعدد بار آ چکی ہیں۔

اسی بارے میں