سات برس بعد پاکستان ایران ٹرین سروس کا دوبارہ آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان ایران کو چاول، پھل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے جبکہ ایران سے گندھک، تارکول اور خام تیل سمیت دیگر پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے مال بردار ریل گاڑی ایران کے شہر زاہدان روانہ ہوئی ہے۔

سات سال کے وقفے کے بعد منگل کو ٹرین سروس کے افتتاح کے موقعے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ مال بردار ٹرین سے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ ملے گا۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے یہ مال بردار ٹرین ایران ریلوے کے تعاون سے شروع کی گئی ہے اور ابتدا میں اسے ہفتے میں ایک دن چلایا جائے گا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان ریل سروس دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ رواں سال مئی میں کیا گیا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد مسافر ٹرین شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارتی جحم تقریباً ایک ارب ڈالر ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان ٹرین سروس بند ہونے کے بعد سے دوطرفہ تجارت ٹرکوں اور سڑکوں کے نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ہے۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر نیاز خان نے بتایا کہ ٹرک سامان لے کر پاکستان ایران سرحد پر واقع شہر تفتان تک جاتے تھے جہاں سے بعد میں ایرانی ٹرکوں پر سامان دوبارہ لادا جاتا اور پھر لے جایا جاتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ٹرین ایرانی شہر زاہدان جائے گی اور اس طرح سامان کوئٹہ سے براہِ راست زاہدان جا سکے گا۔ جس سے وقت بھی کم لگے گا۔‘

ایران کی سرحد سے زاہدان تقریباً 70 سے 75 کلومیٹر دور ہے اور کوئٹہ شہر سے زاہدان تک کا فاصلہ تقریباً سات سو کلومیٹر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹرین کے ذریعے سامان کی نقل و حمل ٹرکوں کے مقابلے میں سستی پڑتی ہے

نیاز خان نے بتایا کہ ٹرین کے ذریعے سامان کی نقل و حمل ٹرکوں کے مقابلے میں سستی پڑتی ہے اور اس سے تاجروں کو فائدہ ہو گا۔

پاکستان ایران کو چاول، پھل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے جبکہ ایران سے گندھک، تارکول اور خام تیل سمیت دیگر پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی علاقوں پر اشیا کی بہت زیادہ سمگلنگ ہوتی ہے۔

نیاز خان نے بتایا کہ ’ایرانی تیل سرحد کے راستے سمگل ہوتا ہے اور سمگل ہونے والے ایرانی پیڑول کی قیمیت پاکستان میں فروخت ہونے والے پیڑول سے تقریباً دس روپے فی لیٹر کم ہوتی ہے۔‘

اقتصادی امور پر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے مشیر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین سروس شروع ہونے سے سمگلنگ اور کرپشن میں کمی آئے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’ٹرکوں کو ہر چیک پوسٹ سے گزرتے ہوئے پیسے دینا پڑتے ہیں، جب کہ ٹرین تو سامان ایران میں ہی اترے گی۔‘

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعلان کے موقعے پر کہا تھا کہ ملک کی نصف سے زیادہ معیشت کا دستاویزات میں ذکر ہی نہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ سمگلنگ سمیت غیر قانونی معیشت کوختم کیا جائے۔ انھوں نے کہا تھا کہ حکومت معیشت کو دستاویزی شکل دینا چاہتی ہے۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے دوسرے علاقوں میں اشیائے ضرورت کو لاہور یا ملک کے دوردراز کے علاقوں سے منگوانے کی بجائے ایران سے برآمد کیا جائے تو اُن کی قیمت کم ہو گی۔

’ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں ایران سے سستی چیزیں منگوائی جا سکتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ کرے اور تفتان کے علاوہ ایران کے ساتھ دوسری سرحدیں بھی تجارت کے لیے کھولے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے دونوں ملکوں کے حکام پر مشتمل ایران پاکستان تجارتی کمیٹی بنائی گئی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکے۔

اسی بارے میں