’قواعد کی خلاف ورزی‘، پی آئی اے کے پانچ ملازمین برخاست

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے ان پانچ ملازمین کو نوکری سے برخاست کر دیا ہے جن سے دو دن قبل لندن میں برطانوی حکام نے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور سمگلنگ کے شبہے میں تفتیش کی تھی۔

پی آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں کمپنی نے کہا ہے کہ یہ پانچوں افراد لندن سے کراچی آنے والی پرواز پی کے 788 کے عملے کے ارکان تھے۔

گذشتہ پیر کو لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر برطانوی حکام نے پی آئی اے کی اس پرواز کو روک کر کئی گھنٹے تک اس کی تلاشی لی تھی۔

جس وقت تلاشی لی گئی تو عملے کے 14 ارکان طیارے پر سوار تھے جن میں سے سات کو ابتدائی طور پر حراست میں لیا گیا تاہم دو کو ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

بقیہ پانچ ارکان سے بھی مزید تفتیش کے بعد انھیں بھی رہا کر دیا گیا تھا۔

پی آئی اے کی جانب سے منگل کو اس سلسلے میں جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی نےپی کے 788 کے کیبن کریو کے پانچ ارکان کی جانب سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر کارروائی کی ہے۔

بیان کے مطابق یہ افراد قومی فضائی کمپنی کی بدنامی کا باعث بنے اور قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی پر ان تمام افراد کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

پی آئی اے تنازعات کی زد میں

خیال رہے کہ برطانیہ میں پی آئی اے کا عملہ ماضی میں بھی تنازعات کی زد میں رہا ہے۔

گذشتہ ماہ ہی ایک برطانوی عدالت نے جعلی پاسپورٹس اپنے زیر جامے میں چھپا کر برطانیہ سمگل کرنے کی کوشش کرنے والےے پی آئی اے کے 59 سالہ سٹیورڈ شوکت چیمہ کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

انھیں مارچ میں برمنگھم کے ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

اس سے قبل سنہ 2013 میں ایک برطانوی عدالت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے پائلٹ عرفان فیض کو پرواز سے پہلے مقررہ حد سے زیادہ شراب پینے کے الزام میں نو ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔

انھیں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ برطانیہ کے لیڈز بریڈفورڈ ایئرپورٹ سے پی آئی اے کی ایئربس اڑا کر پاکستان روانہ ہونے والے تھے۔

سنہ 2012 میں بھی برطانوی شہر مانچسٹر می ں پی آئی اے کے سٹاف پر بڑے سپر سٹورز اور ہوٹلوں سے سامان چوری کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

عملے کی جانب سے مبینہ طور پر دکانوں سے چوری کے واقعات سامنے آنے پر اس وقت بھی برطانوی پولیس نے ایئر لائن کے حکام سے ملاقات کی تھی۔

اسی بارے میں