طلبہ گروپوں میں لڑائی کے بعد ہزارہ یونیورسٹی بند

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے ہزارہ یونیورسٹی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن میں پولیس کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں دو طلبہ گروپوں کے درمیان جھڑپ اور دستی بم کے حملے میں کم سے کم چھ طلبہ زخمی ہوگئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے ہزارہ یونیورسٹی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح ضلع مانسہرہ کے علاقے ڈوڈھیال میں واقع ہزارہ یونیورسٹی میں پیش آیا۔

شنکیاری پولیس سٹیشن کے انچارج افتخار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یونیورسٹی کا ایک طالب علم کیمپس میں داخل ہو رہا تھا کہ گیٹ پر موجود چوکیدار نے اس کا شناختی کارڈ چیک کرنے کے لیے اسے روک لیا جس پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور بعد میں نوبت ہاتھ پائی تک پہنچ گئی۔

انھوں نے کہا کہ اس دوران طالب علم کے دیگر ساتھی جن کا تعلق ایک طلبہ تنظیم سے ہے، وہاں پہنچ گئے جنھوں نے چوکیدار پر تشدد کیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق اس کے بعد لڑائی میں طلبہ کا ایک اور گروپ بھی شامل ہو گیا اور اس طرح دوگروپوں کے درمیان بعد میں دوبارہ لڑکوں کے ہاسٹل کے اندر لڑائی ہوئی جس میں طلبہ کی جانب سے ایک دوسرے پر پستول سے فائرنگ اور دستی بم کا حملہ کیا گیا جس سے چھ طلبہ زخمی ہو گئے۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ واقعے کے بعد فائرنگ اور دستی بم کے حملے کے جرم میں کئی طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ تشدد کے اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے یونیورسٹی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے۔

اسی بارے میں