کراچی کا غیر قانونی سالانہ بجٹ 230 ارب روپے: رینجرز

Image caption ’کراچی فش ہاربر سے غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی رقم لیاری گینگ وار، مختلف دھڑوں اور سندھ کی کچھ بااثر شخصیات میں تقسیم کی جاتی ہے‘

پاکستان رینجرز نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں سالانہ 230 بلین روپے سے زائد رقم غیر قانونی طریقوں سے وصول کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ شہری انفرادی طور پر اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

سرحدی حفاظت پر مامور رینجرز کو کراچی میں قیام امن کے لیے 1990 کی دہائی میں طلب کیا گیا تھا، شہر میں جاری حالیہ آپریشن میں اس کو مرکزی کردار حاصل ہے۔

رینجرز ترجمان نے ایپکس کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے ایک غیر معمولی اعلامیے میں بتایا ہے کہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کراچی فش ہاربر سے غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی رقم لیاری گینگ وار، مختلف دھڑوں اور سندھ کی کچھ بااثر شخصیات میں تقسیم کی جاتی ہے۔

ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ رقم اسلحے کی خریداری اور مسلح جتھوں کو پالنے میں استعمال ہوتی ہے۔

پشاور سکول حملے کے بعد تشکیل دیے گئے قومی ایکشن پلان کے تحت چاروں صوبوں میں ایپکس کمیٹیاں بنائی گئی تھیں، جس کی سربراہی وزیر اعلیٰ جبکہ اراکین میں پولیس کے ساتھ رینجرز اور انٹیلیجنس ادارے بھی ہیں۔

رینجرز ترجمان کے مطابق ایپکس کمیٹی کو بریفنگ میں زکوٰۃ اور فطرانہ کے نام پر پر جبری رقم کی وصولی کا بھی ذکر کیا گیا، جس سے حاصل شدہ رقم ایک تخمینے کے مطابق کروڑوں روپے سالانہ ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ قربانی کی کھالوں کے ذریعے حاصل شدہ رقم بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کا اہم ذریعہ ہے، جو سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عسکری جتھوں کو چلانے میں استعمال ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس میں بھتہ خوری کی شکایت سامنے آئی تھیں۔

رینجرز ترجمان کے اعلامیے کے مطابق ایپکس کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ چھوٹی مارکیٹوں، پتھاروں، بچت بازاروں، قبرستانوں، سکولوں اور کینٹینوں سے حاصل شدہ بھتے کی رقم بھی کروڑوں میں ہے۔

ایپکس کمیٹی کو یہ معلومات ڈی جی رینجرز نے فراہم کی ہیں۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ زمینوں پر قبضے اور چائنا کٹنگ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، سرکاری زمین پر تعمیرات، سرکاری اراضی پر قبضہ اور نجی املاک پر قبضہ۔

شہر میں جاری گرفتاریوں کی طرح زمینوں پر قبضہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق زمین پر قابض مافیا میں سیاسی جماعتیں، شہری حکومت، ضلعی انتظامیہ، تعمیراتی کمپنیاں، اسٹیٹ ایجنٹ اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔

’یہ تمام افراد ایک مربوط نظام کے تحت عمل کرتے ہیں اور ان میں بیشتر کی سرپرستی کراچی کی ایک بڑی جماعت کرتی ہے جبکہ دیگر سیاسی رہنما اور بلڈر بھی اس دھندے میں ملوث ہیں۔‘

ایکپس کمیٹی کا خیال ہے کہ کراچی میں جرائم کے لیے فنڈنگ میں غیر قانونی شادی ہال، غیر قانونی پارکنگ، سیاسی سرپرستی میں منشیات کا کاروبار، میچ فکسنگ، منی لانڈرنگ، فقیر مافیا، سائبر کرائم اور مدارس کی بیرونی فنڈنگ بھی دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

رینجرز اعلامیے کے مطابق ایرانی ڈیزل کی سمگلنگ سے حاصل شدہ رقم بھی جرائم اور دہشت گردی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ رقم سندھ کے سیاسی گروہ اور وڈیروں کے نجی لشکروں کو پالنے اور دیگر جرائم میں استعمال ہوتی ہے۔

’اس غیر قانونی کام میں بااثر افراد ملوث ہیں اور بااثر شخصیات کو سمگلنگ سے حاصل شدہ رقم سے حصہ باقاعدگی سے پہنچایا جاتا ہے۔‘

اسی بارے میں