کراچی میں ہڑتال کلچر ختم ہونا چاہیے: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الطاف حسین نے لندن سے ٹیلیفونک خطاب میں مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اپنے ’مکھی کے مرجانے پر ہڑتال ہو جاتی ہے‘ والے الفاظ پر معافی مانگیں

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کراچی میں ایوان صنعت و تجارت میں صنعت کاروں اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہڑتال کے کلچر کو ختم ہونا چاہیے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ انھوں نے تاجر برادری کی شہر میں کی جانے والی ہڑتال کی شکایتیں سنیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ کوئی ایسا انتظام کریں کہ ہڑتالیں نہ ہوں۔

یاد رہے کہ کراچی گذشتہ ہفتے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد دو روز بند رہا تھا۔ ایم کیو ایم گورنر سندھ سے لاتعلقی کا اظہار کرچکی ہے جبکہ ماضی میں وہ حکومت اور تنظیم میں پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان نے کہا ’اگر مکھی بھی مر جاتی ہے تو احتجاج اور ہڑتال ہوتی ہے جو نہیں ہونی چاہیے۔‘

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کراچی میں جب ہڑتالیں نہیں ہوں گی تو یہاں صنعتیں چلیں گی، ملک کی معشیت پھلے پھولے گی جس سے عوام کو فائدہ ہوگا، سکول اور سڑکیں بنیں گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ’کراچی میں جب ہڑتالیں نہیں ہوں گی تو یہاں صنعتیں چلیں گے، ملک کی معشیت پھلے پھولے گی‘

نواز شریف نے تاجروں کو بتایا کہ کراچی حیدرآباد موٹر وے پر جلد کام شروع ہونے والا ہے جہاں سے اسے سکھر جانا ہے جس کے بعد یہ موٹر وے چین پاکستان اقتصادی راہداری میں شامل ہو جائے گی۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ وہ سکیورٹی معاملات سے غافل نہیں ہیں چاہے ملک کی سکیورٹی ہو یا کراچی کی تاہم انھوں نے رینجرز کی گذشتہ روز جاری کی گئی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

وزیر اعظم کے اس خطاب کے بعد جمعہ کو رات گئے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے لندن سے ٹیلیفونک خطاب میں مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اپنے ’مکھی کے مرجانے پر ہڑتال ہو جاتی ہے‘ والے الفاظ پر معافی مانگیں۔

واضح رہے کہ پاکستان رینجرز نے گذشتہ روز اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ کراچی میں سالانہ 230 بلین روپے سے زائد رقم غیر قانونی طریقوں سے وصول کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ شہری انفرادی طور پر اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

رینجرز ترجمان نے ایپکس کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے ایک غیر معمولی اعلامیے میں بتایا کہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کراچی فش ہاربر سے غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی رقم لیاری گینگ وار، مختلف دھڑوں اور سندھ کی کچھ بااثر شخصیات میں تقسیم کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں