’مفاد کے خلاف سرگرمیوں کا مطلب کیا؟‘

Image caption انھوں نے کہا کہ جہاں تک سیو دی چلڈرن کے خلاف حکومت کی کارروائی کا تعلق ہے تو یہ قدم خفیہ اداروں کی رپورٹ ہی پر اٹھایا گیا ہے

حکومت پاکستان نے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی فلاحی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کا ملک میں دفتر سیل کرنے کے ساتھ ساتھ اس تنظیم کے غیر ملکی عملے کو 15 دن میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ نے اس تنظیم کا آپریشن پاکستان میں بند کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ تنظیم ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھی جو پاکستان کے مفاد کے خلاف تھیں اور جس سے متعلق خفیہ اداروں نے بھی متعدد بار رپورٹس پیش کی تھیں۔‘

تاہم بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں میں اس کارروائی پر تحفظات ضرور تھے لیکن اس پر حیرانی نہیں تھی۔

عالمی تنظیم کے ایک عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیو دی چلڈرن کے خلاف جو کارروائی کی گئی ہے اس میں ان کے خیال میں کسی کو حیرانی نہیں ہوئی ہے۔

’سنہ 2012 میں پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سیو دی چلڈرن کو ڈاکٹر شکیل آفریدی سے جوڑا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن تک رسائی پولیو ویکسینیشن کے ذریعے ہوئے تھی اور شکیل آفریدی نے سیو دی چلڈرن کے ساتھ پولیو مہم میں کام کیا تھا۔‘

اس عہدیدار نے مزید کہا کہ اسی لیے سنہ 2012 میں سیو دی چلڈرن کے دفتر کو بند کیا گیا اور غیر ملکی عملے کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا۔

تاہم ایک بین الاقوامی امدادی تنظیم کے رکن نے کہا کہ ان کو پریشانی اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان کا ’پاکستان کے مفاد کے خلاف سرگرمیوں‘ سے کیا مطلب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وفاقی وزیر داخلہ نے اس تنظیم کا آپریشن پاکستان میں بند کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ تنظیم ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھی جو پاکستان کے مفاد کے خلاف تھیں ‘

’ہم اکثر ایسے علاقوں میں حکومت کی اجازت سے جاتے ہیں جہاں پر اگرچہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے سکیورٹی کی پیش کش کی جاتی ہے لیکن ہم اس کو انکار کر دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہم اگر سرکاری فورسز کے ساتھ پھرتے اور کام کرتے نظر آئیں گے تو ہماری غیر جانبداری پر سوال اٹھایا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہوئی کہ پاکستان میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں غیر ریاستی عناصر سرگرم ہیں۔ ’ہمیں ایسے علاقوں میں ان غیر ریاستی عناصر کے ساتھ بھی رابطے استوار کرنے پڑتے ہیں کیونکہ ہماری سکیورٹی کا مسئلہ ہوتا ہے اور جب تک سکیورٹی کی یقین دہانی نہ ہو تب تک ہم اس علاقے میں کام نہیں کرتے۔ کیا ایسے روابط قائم کرنا ’پاکستان کے مفاد کے خلاف سرگرمیوں‘ میں شامل ہوتا ہے؟‘

بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں نے سوال اٹھایاہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی این جی او پاکستان سمیت کسی بھی ملک میں کام کرے اور اس ملک کے دفتر خارجہ کو معلوم نہ ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کی حرکات و سکنات سے قبل دفترِ خارجہ کو آگاہ کیا جاتا ہے اور اجازت لی جاتی ہے۔

دفترِ خارجہ کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں اور بین الاقوامی تنظیموں کے لیے کام کرنے والے غیر ملکیوں کی اسلام آباد سے باہر موومنٹ کی اطلاع دفترِ خارجہ کو پہلے دی جاتی ہے۔

’ہاں ریمنڈ ڈیوس کیس سے قبل یہ تنظیمیں پروٹوکول کا خیال نہیں رکھتی تھیں اور ان خلاف ورزیوں کا اتنا نوٹس نہیں لیا جاتا تھا۔ لیکن ریمنڈ ڈیوس کیس کے بعد پروٹوکول پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جہاں تک سیو دی چلڈرن کے خلاف حکومت کی کارروائی کا تعلق ہے تو یہ قدم خفیہ اداروں کی رپورٹ ہی پر اٹھایا گیا ہے۔

دوسری جانب سیو دی چلڈرن کے خلاف حکومت کی کارروائی پر ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ بات نہ تو 2015 کی ہے اور نہ ہی یہ قصہ سنہ 2012 میں شروع ہوا تھا۔

’یہ قصہ 2 مئی 2011 کے چند ہی روز بعد میں اس وقت شروع ہوا تھا جب سیو دی چلڈرن کے کم از کم پانچ غیر ملکی اہلکار پاکستان سے ایک ساتھ روانہ ہوئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت غیر ملکی تنظیموں کے بھی کان کھڑے ہوئے کیونکہ ’اتنی بڑی تعداد میں ایک ساتھ غیر ملکیوں کا جانا ہمارے لیے بھی حیران کن‘ تھا۔

اسی بارے میں