مکھیو باز آجاؤ!

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستانی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کے علاوہ شاید میں اکیلا شخص ہوں جو وزیرِ اعظم نواز شریف کی اس بات سے صد فیصد متفق ہے کہ کراچی میں مکھی بھی مر جائے تو شہر بند ہوجاتا ہے، یہ کوئی اچھی بات نہیں۔

کچھ لوگ وزیرِ اعظم کے اس جملے کو کراچی میں مرنے والوں کی توہین قرار دے کر جانے کیوں بات کا بتنگڑ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

دیکھیے یہ برا ماننے کی بات نہیں ۔ذرا سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ ہمارے خطے میں مکھیاں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو پھلوں، پھولوں اور مٹھائی وغیرہ کا رس چوس کے شہد بناتی، کھاتی اور کھلاتی ہیں اور اگر کوئی کم ذات مکھی ان کے چھتے کی جانب آنکھ اٹھا کے بھی دیکھے تو اسے بھی بھنبھوڑ دیتی ہیں۔

آپ چاہیں تو انھیں مکھیوں کی اسٹیبلشمنٹ کہہ سکتے ہیں۔ پر ایسا نہیں کہ رس جمع کرنے والی چھتے کی ہر مکھی کا درجہ برابر ہے۔

بس یوں سمجھیے کہ شہد کا چھتہ بالکل ہم جیسے ملکوں کی فوٹو کاپی ہوتا ہے۔ اس میں بے شمار خانے ہوتے ہیں۔ چھتے کی حکمران نسل در نسل خاندانی ملکہ مکھی ہوتی ہے۔ اس ملکہ کے کارندے مکھے مکھیاں شاہی ہدایات و نگرانی میں چھتہ تعمیر کرتے ہیں اور مسلسل توسیع دیتے ہیں، نظم و نسق چلاتے ہیں اور رس جمع کرنے والی کارکن مکھیوں پر نگاہ رکھتے ہیں۔

لاابالی و غیر ذمہ دار کارکنوں کو چھتہ بدری سمیت جملہ سزائیں بھی دی جاتی ہیں، بیرونی خطرات سے چھتے کا تحفظ کیا جاتا ہے اور اردگرد کی ٹہنیوں اور پتوں پر براجمان شرپسند حشرات پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

مکھیوں کی دوسری قسم وہ ہے جو بکثرت ہونے کے باوجود نسلاً کمتر اور چھوٹے دماغ کا طبقہ ہے۔ اس لیے وہ گندگی، کچرے، فضلے اور صاف غذا میں تمیز سے محروم ہے اور کبھی اگر کسی کھانے یا مٹھائی پر بیٹھ بھی جائے تو اڑا دیا جاتا ہے۔

شہد کی منافع بخش مکھیوں کو تو ناز و نعم سے پالا جاتا ہے مگر عام مکھی کا تو ناک پہ بیٹھنا بھی برداشت نہیں ہوتا۔ دودھ میں گر جائے تو مکھی نکالنے کے بجائے پورا دودھ ہی پھینک دیا جاتا ہے۔ کوئی اس گھٹیا مخلوق کو کھلی کیا بند آنکھوں نگلنے پر بھی تیار نہیں۔ پھر بھی اللہ جانے یہ کیوں پیدا کی گئی اور وہ بھی اتنی زیادہ۔۔۔

آپ خود ہی سوچیے کہ اگر یہ گندگی میں پرورش پانے والی، بیماریاں پھیلانے والی، ناکارہ مکھیاں محض عددی اکثریت کے بل بوتے پر خود کو شہد کی مکھیوں کے ہم پلہ سمجھنے لگیں اور پھر ان کے چھتے کے آس پاس بھی بڑی تعداد میں بھنبھنانا شروع کر دیں کہ جسے جانے کتنی محنت سے اشرافیہ مکھیوں نے اشرافیہ مکھیوں کے لیے بنایا تو دل پہ ہاتھ رکھ کے کہیے کہ ایسی ناہنجار مکھیوں کا سوائے سپرے کیا علاج؟

کیا یہ کافی نہیں کہ ان نیچوں کو اب تک برداشت کیا جا رہا ہے۔ انھیں اڑنے، بھنبھنانے اور مرضی کی غلاظت سے مرضی کی غذا چننے کا اختیار ہے۔ حالانکہ یہ نہ بھی ہوں تب بھی دنیا چلتی رہے گی، شہد بنتا، بٹتا، بکتا رہے گا، چھتہ پھلتا پھولتا رہے گا۔

اس لیے اے گھٹیا مکھیو، اگر اپنا وجود عزیز ہے تو خود کو چھتے والوں کے برابر سمجھنا چھوڑ دو ورنہ تم سب سے نمٹنے کے لیے چھتے کے چند چھاتہ بردار ہی کافی ہیں۔ تعداد میں بھلے تم کتنی بھی ہو جاؤ مگر تمھاری مجموعی قیمت شہد کی ایک ادنا مکھی کے برابر بھی نہیں۔ اوقات پہچانو، غلاظت پر جیواور مرتی ہو تو مرو۔

اسی بارے میں