پنجاب میں دس افراد کو پھانسی دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی ہٹانے کے بعد اب تک 160 سے زائد افراد کو پھانسی دی جاچکی ہیں

پنجا ب میں منگل کو مختلف عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے دس افراد کو پھانسیاں دے دی گئی ہیں۔

دس افراد کو ملک کی مختلف جیلوں میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ ماضی قریب میں ایک ہی روز میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو تختہ دار پر لٹکانے کی مثال نہیں ملتی۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی ہٹانے کے بعد اب تک 160 سے زائد افراد کو پھانسی دی جاچکی ہیں اور اس میں سے اکثریت کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق پھانسیاں دینے کے معاملے میں صوبہ سندھ دوسرے، خیبر پختونخوا تیسرے اور بلوچستان چوتھے نمبر پر ہے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین سمیت متعدد بین الاقوامی تنظمیں پاکستان پر دباؤ ڈالتی رہی ہیں کہ وہ پھانسیوں پر عمل درآمد رکوائے جبکہ اس ضمن میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ مجرموں کو پھانسیاں پاکستانی قوانین کے مطابق دی جا رہی ہیں۔

منگل کو وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں تین مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ جیل حکام کے مطابق تین مجرموں جن میں محمد رفیق، جواد حسین اور اکرام حسین شامل ہیں، کو پھانسی دی گئی۔

جیل حکام کے مطابق ان مجرموں کا تعلق چکوال سے تھا اور اُنھوں نے دیرینہ دشمنی کی بنا پر اُنیس سو بانوے میں دو افراد کو قتل کردیا تھا جس پر متعلقہ عدالت نے اُنھیں موت کی سزا سنائی تھی اس کے علاوہ صدر نے بھی اُن کی رحم کی اپیلیں مسترد کردی تھیں۔

پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں مجرم محمد اشرف کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اُنھیں ایک بارہ سالہ بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور پھر اسے قتل کرنے کے مقدمے میں پھانسی دی گئی۔

اس کے علاوہ فیصل آباد میں دو مجرموں کو جبکہ لاہور سیالکوٹ، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور میں ایک مجرم کو پھانسی دی گئی۔

آٹھ سالہ بچے کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے شفقت حسین کی پھانسی کے لیے ابھی تک کوئی نئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

اس سے پہلے متعقہ عدالت نے اُنھیں نو جون کو پھانسی دینے کی تاریخ مقرر کی تھی لیکن سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا اور ابھی تک یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا کہ یہ احکامات کس نے دیے تھے کیونکہ قانون کے مطابق ایسے حالات میں صرف صدر مملکت ہی پھانسی روکنے کے احکامات جاری کرسکتے ہیں تاہم ایوان صدر اس بارے میں لاعلم ہے۔

غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ جس وقت عدالت نے شفقت حسین کو سزا سنائی تھی اس وقت وہ نوعمر تھے۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد پھانسیوں پر عمل درآمد سے پابندی ہٹالی تھی اور پہلے مرحلے میں صرف اُن افراد کو پھانسیاں دی گئیں جن کا تعلق شدت پسند کالعدم تنظیموں سے تھا بعدازاں حکومت نے شدت پسندی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت جن مجرموں کو عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا سنائی گئی تھی اس پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔

اسی بارے میں