ایک سال میں ضربِ عضب کس قدر کامیاب؟

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption فوج نے رواں سال اکتوبر میں شمالی وزیرستان کے 80 فیصد علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کروانے کا دعویٰ کیا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ ایک سال سے جاری آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ملک میں عمومی طورپر بڑے بڑے حملوں میں کمی تو نظر آئی ہے لیکن علاقہ ابھی تک مکمل طورپر عسکری تنظیموں سے صاف نہیں کرایا جاسکا ہے۔

ضربِ عضب دہشت گردی کے خلاف حکومتی عزم کا مظہر

دہشت گرد گئے کہاں؟

فوجی نہیں قومی آپریشن ایک سال پہلے تک طالبان کی ’امارت‘ سمجھی جانے والے شمالی وزیرستان میں حکومتی عمل داری کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، ایجنسی کے زیادہ تر علاقوں پر ملکی اور غیر ملکی دہشت گرد قابض تھے جنہوں نے مقامی لوگوں کو بھی یرغمال بنایا ہوا تھا۔

20 فیصد علاقہ

ابتدا میں یہ آپریشن تیزی سے جاری رہا لیکن جوں جوں اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا کاروائیوں میں بھی اب اس طرح کی تیزی نظر نہیں آرہی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں حکومت کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیرستان کے 80 فیصد علاقے پر حکومتی عمل داری بحال ہوگئی ہے۔ لیکن پچھلے سات ماہ کے دوران بیس فیصد علاقہ پر کنٹرول حاصل نہیں کیا جا سکا ہے کیونکہ پاک افغان سرحدی علاقوں دتہ خیل اور شوال میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے بدستور کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

آپریشن کے نتیجے میں فوج کس حد تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کا میاب رہی ہے، اس ضمن میں رائے منقسم نظر آتی ہے۔ دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیر (ر) محمد سعد کا کہنا ہے کہ ایک سال پہلے تک ملک میں ایک افراتفری کی فضا تھی، ہر طرف بڑے بڑے حملے ہورہے تھے، کراچی ایئر پورٹ پر بڑا حملہ کیا گیا تاہم آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے حالات اب کچھ حد تک بہتر ہوئے ہیں۔

’ ہم اسے مکمل کامیابی بالکل نہیں کہہ سکتے بلکہ وقتی طورپر دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ جو لوگ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں ان کے پاس اب بھی یہ صلاحیت ہے کہ بڑی بڑی کاروائیاں کرسکیں جیسے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ، کوئٹہ پشتون آباد اور کراچی میں شیعہ اسماعیلیوں پر حملے اس کا واضح ثبوت ہے۔‘

ان کے مطابق حالیہ حملے دہشت گردوں کی جانب سے ایک پیغام بھی ہیں کہ وہ اب بھی کسی علاقے میں کاروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

محمد سعد نے مزید کہا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہاں جلد از جلد کاروائی مکمل کی جائے اور بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرکے اختیارات سول انتظامیہ کے سپرد کردیےجائے تاکہ بحالی کے منصوبوں کا آغاز کیا جاسکے۔

اس آپریشن کی ابتدا سے ہی متعلقہ علاقوں میں ذرائع ابلاغ کو بڑی محدود رسائی دی گئی۔ حکومت اور فوج کی جانب سے تمام معلومات کو بڑے کنٹرول میں رکھا گیا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہاں کتنی ہلاکتیں ہوئی، کس فریق کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور عسکری تنظیموں کی قیادت کہاں گئی؟

بے گھر افراد

شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سنئیر تجزیہ نگار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اس حد تک تو کامیاب نظر آرہا ہے کہ تحریک طالبان کے جنگجو بکھر گئے ہیں اورلگتا ہے انکے کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی تک بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکے ہیں اور وہاں آپریشن بھی جاری ہے لہذا اسے مکمل کامیاب آپریشن نہیں کہا جاسکتا۔

Image caption حکومت کی جانب سے بے گھر ہونے والوں کی واپسی کا عمل جاری ہے

آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جو پناہ گزین کیمپوں یا کرائے کے مکانات میں بدستور مقیم ہیں۔

حکومت نے حال ہی میں متاثرین کی واپسی کا عمل شروع کیاجس کے تحت بے گھر افراد کو ایک سال کے اندر گھروں کو واپس بھیجا جائے گا۔ ابھی تک اطلاعات کے مطابق بیشتر ان علاقوں کے افراد کو واپس بھیجا گیا ہے جہاں باقاعدہ آپریشن نہیں کیا گیا تھا جس کے خلاف متاثرین اور تمام اقوام پر مشتمل وزیرستان کا نمائندہ جرگہ سراپا احتجاج ہے۔

قبائیلیوں کا مطالبہ ہے کہ پہلے میران شاہ اور میرعلی تحصیلوں کے متاثرین کو واپس منتقل کیا جائے جو سب سے پہلے بے گھر ہوئے اور جن کا نقصان بھی زیادہ ہوا ہے۔

ادھر دوسری طرف آپریشن ضرب عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران اب تک مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے347 افسران اور جوان بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے سنیچر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں جاری کارروائیوں کے دوران بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 9000 خفیہ اطلاعات پر کارروائیوں میں شہری علاقوں میں موجود 218 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں کارروائیوں کے دوران مختلف نوعیت کے 18087 ہتھیار اور 253 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں