بلوچستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ خسارے کا بجٹ پیش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرکاری ملازمین کے تنخواہوں اور مراعات میں وفاقی بجٹ کے مطابق اضافہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے لیے243 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کردیا گیا ہے۔

بجٹ میں 26ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے جو صوبے کی تاریخ میں کسی بجٹ میں سب سے بڑا خسارہ ہے۔

بجٹ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں مشیر برائے خزانہ میر خالد خان لانگو نے پیش کیا۔

بجٹ میں مجموعی آمدن کا تخمینہ217ارب روپے ہے۔

آئندہ مالی سال کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 189ارب روپے لگایا گیا جبکہ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 54 ارب روپے سے زائد ہے۔

اس طرح بلوچستان کو آئندہ مالی سال کے دوران 26ارب روپے سے زائد کے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بجٹ میں امن و امان کے قیام کے لیے 22ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں سال کے مقابلے میں 26فیصد زیادہ ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں سماجی ترقی کے شعبوں میں تعلیم کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر38ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں سال کے مقابلے میں دس ارب روپے زیادہ ہے۔

خالد خان لانگو نے کہا کہ صحت کے شعبے کی جانب بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

اس شعبے کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 15ارب48کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں ایک ارب روپے زیادہ ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں انشورنس پروگرام متعارف کیا جارہا ہے جس کے لیے دو ارب 40کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

بے روزگاری بلوچستان کا ایک اہم مسئلہ ہے لیکن بجٹ میں سرکاری شعبے میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پانچ ہزار نئی آسامیاں رکھی گئی ہیں۔

سرکاری ملازمین کے تنخواہوں اور مراعات میں وفاقی بجٹ کے مطابق اضافہ کیا گیا ہے ۔

مشیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں جہاں وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف کی بھر پور تعریف کی وہاں فوج کی کارکردگی کو بھر پور سراہا۔

اسی بارے میں