فوج کے بارے میں میڈیا اتنا محتاط کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ

­­­­پاکستان میں سابق صدر جنرل مشرف کے طویل اقتدار، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی فوجی آپریشن اور میموگیٹ سکینڈل کے بعد ملک میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب مسلح افواج کی قیادت کو منتخب ایوانوں سے لے کر ٹی وی ٹاک شوز تک میں کھلم کھلا تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے لیے ماضی میں ’مقدس گائے‘ تصور کی جانے والی فوج کے کاروباری مفاد سے لے کر جرنیلوں کی مبینہ بدعنوانیوں کے قصے بھی منظرِ عام پر آنے لگے۔

ملکی کی سیاسی روایت میں مبصرین کے خیال میں یہ تبدیلی کئی اعتبار سے بہت مثبت تھی لیکن عارضی ثابت ہوئی۔

گذشتہ سال عمران خان کے دھرنے اور ’ایمپائر کی انگلی‘ کی جانب بارہا اشاروں اور پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے جیسے واقعات سے سیاسی منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔

مبصرین کے خیال میں آپریشن ضرب عضب اور آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے ملکی سکیورٹی کے ساتھ ساتھ پالیسی سازی میں فوج کا کردار بہت سے معاملات میں کھل کر سامنا آیا ہے۔ میڈیا نے بھی فوج کی بالادستی کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اُن کے دعووں اور بیانات کو زور و شور سے شائع بھی کیا گیا۔

پاکستان میں میڈیا کے حالیہ لب و لہجے کے بارے میں سینئیر صحافی اور تجزیہ کار ایم ضیاالدین کہتے ہیں کہ جب جمہوری حکومت اقتدار میں ہو تو فوج کی ایجنسیاں مختلف طریقوں سے فوج کے امیج کو نمایاں کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ ایسے میں کچھ ناتجربہ کار صحافی فوج کے بارے میں ’تعریفی بیانات‘ نشر کرنا بہت ضروری سمجھتے ہیں۔

’انھیں (صحافیوں کو) یہ بھی خدشہ ہوتا ہے کہ اگر فوج پر تنقید کی تو اُن کا بھی وہی حال ہو گا جو جیو نیوز کا ہوا تھا۔‘

تجزیہ کار اور صحافی طلعت حسین کہتے ہیں فوج پر تنقید کے معاملے میں میڈیا میں دھیما پن ضرور آیا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ فوج پر تنقید نہیں ہو رہی ہے۔ ’سیاسی جماعتوں کی حد تک تو مقدار سے زیادہ تنقید ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں جب فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہو تو وہ معاملات جن پر تنقید کی جا سکے، پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔‘

طلعت حسین کے خیال میں وفاقی حکومت بہت سے معاملات میں پیچھے ہٹ کر فوج کے اثر و رسوخ کو بےجا بڑھاوا دے رہی ہے۔

ضیاالدین کہتے ہیں کہ ’نریندر مودی نے بھارت کا وزیراعظم بننے کے بعد بیانات کے ذریعے پاکستان کو کارنر کیا ہے اور پاکستانی میڈیا سمجھتا ہے کہ بھارتی جارحیت کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے بھی فوج کا امیج بہتر کیا جائے۔

’میڈیا سمجھتا ہے کہ اُن کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی فوج کے امیج کو بڑھاوا دیا جائے اور اُن پر تنقید نہ کی جائے۔‘

پاکستان میں فوج کااثر و رسوخ بڑھنے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حالات ایسے ہو رہے ہیں کہ فوج کو سامنے آ کر اپنا کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

تجزیہ کار طلعت حسین کہتے ہیں کہ ’ملک کے معروضی حالات، جیسے دہشت گردوں کے خلاف جنگ اور بھارت سے کشیدگی اور مسائل کے حل میں صوبائی حکومتوں کی ناکامی کی وجہ سے فوج کا اثر و رسوخ تو بڑھا ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی بحث سے دور رہنا چاہیے ورنہ وہ متنازع ہو جائیں گے۔‘

ایم ضیاالدین کے خیال میں پاکستان کی سیاست میں فوج کے عمل دخل کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ’طویل عرصے سے فوج ملک کی خارجہ، دفاعی اور اقتصادی پالیسیاں بنا رہی ہے ۔ فوج کے کردار کو ختم کرنے میں وقت لگے گا۔‘

ضیاالدین نے سوال کیا کہ ’رینجرز کو کراچی میں مجرموں کو ختم کرنے کا ہدف دیاگیا ہے لیکن وہ پریس ریلز کیوں جاری کر رہے ہیں، رینجرز کو یہ مینڈیٹ کس نے دیا ہے؟‘

یاد رہے کہ کراچی میں رینجرز نے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا تھا کہ کراچی میں سالانہ 230 ارب روپے سے زائد رقم غیر قانونی طریقوں سے وصول کی جاتی ہے اور یہ رقم اسلحے کی خریداری اور مسلح جتھوں کو پالنے میں استعمال ہو رہی ہے۔

طلعت حسین کہتے ہیں کہ ماضی میں فوجی قیادت فیصلہ سازی میں جمہوری حکومت کو نظرانداز کرتی رہی ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔’فوج پہلے ہر معاملے میں ڈکٹیشن دیتی تھی، اُس میں تبدیلی آئی ہے فوج اپنا کردار ضرور ادا کر رہی ہے لیکن اسے سویلین حکومت کو نظرانداز کرنے کا جو شوق تھا، اب ایسا نہیں ہو رہا۔‘

پاکستان میں دفاع، خارجہ اور ملکی مسائل کے حل میں فوج کا کردار پہلے کی نسبت بڑھا ہے یا کم ہوا ہے، اس بارے میں طلعت حسین کا کہنا ہے کہ ’دفاع اور خارجہ امور میں فوج کا اثر و رسوخ بہت بڑھا ہے۔‘

تجزیہ کار ضیاالدین کے خیال میں پاکستان میں فوج کے کردار میں نمایاں اضافے کی چار وجوہات ہیں۔ ’مودی کے بیانات، آپریشن ضربِ عضب، سیاسی حکومتوں کی نااہلی اور میڈیا جس نے فوج کے نقطہ نظر کو بڑھاوا دیا۔‘

اسی بارے میں