فوجی قیادت پر تنقیدی بیان کی وجہ کیا بنی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’سیاست دانوں کے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے‘

پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کی جانب سے منگل کو فوجی قیادت پر تنقیدی بیان کی وجہ کیا بنی، اس بارے میں وفاقی دارالحکومت میں بدھ کے روز تمام دن قیاس آرائیاں جاری رہیں۔

صورتحال اس وقت واضح ہوئی جب پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ کے اجلاس میں ایک نکتۂ اعتراض پر کہا کہ صوبہ سندھ، جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، میں تعینات رینجرز حکام اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔

’ہماری کردار کشی نہ رکی تو پھر یہ سلسلہ دور تک جائے گا‘

’اپنے دائرۂ اختیار میں رہیں:‘ ڈی جی رینجرز کو وزیراعلیٰ کی چٹھی

انھوں نے کہا کہ رینجرز کے مسلح اور چہروں پر ماسک پہنے جوانوں کا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر دھاوا بولنا، ان کے اختیار سے باہر ہے۔

انھوں نے کراچی کے کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل نوید مختار کا نام تو نہیں لیا لیکن حال ہی میں ان کی جانب سے ایک سیمینار میں صوبہ سندھ میں طرز حکومت کو برا (بیڈ گورننس) قراد دینے پر تنقید کرتے کہا کہ ایسے بیانات اختیار سے تجاوز کے زمرے میں آتے ہیں۔

’اس طرح کے عوامی بیانات کے ذریعے صوبائی حکومت پر برے طرزِ حکمرانی اور بد عنوانی کے الزامات لگانا کیا اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں ہے؟‘

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ صوبہ سندھ میں قائم ایپکس کمیٹی کے ذریعے سندھ میں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت کو غیر موثر کیا جا رہا ہے۔

’کہیں ایسا تو نہیں کہ ایپکس کمیٹی کے ذریعے صوبائی حکومتوں کو معطل کیا جا رہا ہے، اور وہ اختیارات جو اسٹیبلشمنٹ پہلے پردے کے پیچھے رہ کر استعمال کرتی تھی، اب ایپکس کمیٹیوں کے ذریعے استعمال کرنا چاہ رہی ہو؟‘

داخلہ امور کے وزیر مملکت بلیغ الرحمٰن نے ان دونوں الزامات کو مسترد کرتے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے بارے میں اعتراض اس لیے بے جا ہے کہ اس کی سربراہی وزیراعلیٰ کرتے ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے اس موقعے پر ان خدشات کی بھی تردید کی کہ وفاقی حکومت صوبہ سندھ میں گورنر راج لگانے کے بارے میں تجویز پر غور کر رہی ہے۔

’ایسے خدشات کہ وفاقی حکومت کسی صوبائی حکومت کے اختیارات سلب کرنا چاہتی ہے، بالکل بے بنیاد ہیں۔ امن و امان مکمل طور پر صوبائی معاملہ ہے۔ اگر صوبائی حکومت کے اختیارات لینے ہی ہوتے تو وزیر اعظم گورنر راج لگانے کی تجویز کو یکسر مسترد نہ کر دیتے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے صحافیوں سے گفتگو میں خود یہ سوال اٹھایا کہ سابق صدر نے ایسے وقت میں فوج کے خلاف سخت زبان استعمال کیوں کی جب وہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی بدعنوانی پر سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ محاذ کھولنا چاہتی ہے۔

’میں تو پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ وہ فہرست عوام کے سامنے پیش کی جائے جس کو چھپانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ وہ لسٹ سامنے آئے گی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘

شاہ محمود قریشی کا واضح اشارہ سندھ رینجرز کے سربراہ کی اس رپورٹ کی جانب تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کراچی میں کھربوں روپے کی بدعنوانی میں بعض با اثر سیاسی رہنما ملوث ہیں۔ صوبہ سندھ میں امن و امان کی صورت حال میں خرابی اور وہاں رینجرز کا آپریشن ڈیڑھ برس سے جاری ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے لہجے کی تلخی ظاہر کرتی ہے کہ یہ نیم فوجی آپریشن کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے والا ہے۔

اسی بارے میں