’ہجوم کرائے پر دستیاب ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’بندے اکٹھے کرنا کون سا مشکل کام ہے؟ ابھی فون کروں سو بندہ اکٹھا ہو جائے گا۔ اتنے پتھر پڑیں گے کہ کچھ نہیں بچے گا اور اگر بچ گیا تو دس روپے کا پٹرول بہت ہے۔‘

شہر کے نواح میں واقع ایک ڈیرے پر اس بااثر شخص نے یہ بات اتنی ہی آسانی سے کہی جیسے بندے نہیں دانہ ڈال کر پرندے اکٹھے کرنے ہوں۔ مگر حقیقت ہے کہ ایسی کئی بااثر شخصیات موجود ہیں جن کے ہاتھ میں ہجوم کی طاقت ہے جسے وہ اپنے اور دوسروں کے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

بات مفادات تک نہیں رکتی اور بی بی سی اردو کی تحقیقات کے مطابق اکثر ایسے ہجوم کے پیچھے ایک پورا کاروباری نظام کارفرما ہوتا ہے اور ہر کاروبار کی طرح اس کے بھی ریٹ ہیں اور منافع اور اس کی تقسیم کا منظم نظام ہے۔

اس تحقیق کے دوران ہم ایک ایسے بااثر ڈیرے پر پہنچے جہاں اسلحہ سے لیس مسلح افراد موجود تھے جن میں سے کچھ ناشتہ کرنے میں مصروف تھے جبکہ کچھ اپنے اسلحے کی صفائی کر رہے تھے اور ایک جانب بظاہر ایک ’ہجوم کو کرائے پر دینے‘ کا سودا طے پا رہا تھا۔

اس گروہ کے سرغنہ کو فون پر کہتے ہوئے سنا کہ ’کام باتوں سے نہیں ہوتے اس پر پیسے لگتے ہیں اسلحہ چاہیے ہوتا ہے، گاڑیاں جاتی ہیں۔‘

Image caption گوجرانوالا میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں میں ایک نامولود بچہ، دو کم سن بچیاں اور ان کی نانی شامل تھیں۔

گروہ کے سرغنہ نے بتایا کہ کسی بھی قسم کے کام کے لیے پیسے لیے جاتے ہیں جن کا نصف پہلے اکاؤنٹ میں جمع کیا جاتا ہے جس کے بعد کام ہونے پر باقی رقم وصول کی جاتی ہے۔ ہجوم میں شامل ہونے والے افراد کے کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا ہے اور اگر کام زیادہ بڑا ہو تو انھیں رقم بھی دی جاتی ہے اور اگر کوئی گرفتار ہو جائے تو اسے تحفظ دیا جاتا ہے اور رہا کروانے کی ضمانت دی جاتی ہے۔

دوسری جانب خواجہ صاحب جیسے ڈیرے دار ہیں جنھوں نے چند منٹوں میں ہمارے دیکھتے دیکھتے درجنوں لوگ جمع کر لیے اور ان کا کہنا ہے کہ ہجوم کو مثبت انداز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

خواجہ صاحب کہتے ہیں کہ ’جب حکمران اور افسران جائز مطالبات تسلیم نہیں کرتے تو پھر علاقے کے مکین ان مسائل کے حل کے لیے مجھ سے رجوع کرتے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ میرے علاقے کے مکین سرکار سے زیادہ مجھ پر اعتبار کرتے ہیں۔‘

مثال دیتے ہوئے خواجہ صاحب نے کہا کہ جب اُن کے علاقے میں گیس فراہم نہیں کی جا رہی تھی تو میں نے کال دی اور چند لمحوں میں ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہو گیا جس نے پہلے سڑک بلاک کی اس کے بعد اس نے ریلوے لائن بلاک کی اور بالآخر علاقے کے مکینوں کو گیس فراہم کی گئی۔

خواجہ صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ لوگ اکثر ڈیروں کے اثر و رسوخ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

’دیکھیں اگر کوئی مسجد سے کھڑا ہو کر یہ اعلان کرے گا کہ فلاں شخص نے توہین کی ہے یا گستاخی کی ہے تو لوگ تصدیق تو نہیں کریں گے بلکہ ہمارے ہاں تو لوگ مارتے پہلے ہیں پوچھتے بعد میں ہیں۔ مشتعل ہجوم کو قابو میں کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بچنے والے متاثرین خوف کے باعث اب تک لوٹ نہیں پائے اور آج بھی ان مکانوں کو تالے لگے ہیں اور پولیس کی ایک نفری ان خالی مکانوں کی نگرانی کرتی ہے۔

گذشتہ سال جولائی میں اسی طرح کے ایک ہجوم نے گوجرانوالا میں احمدیوں کے مکانات پر حملہ کیا۔ جھگڑا کرکٹ کے میدان سے شروع ہوا مگر ایک احمدی نوجوان پر توہین کا الزام لگا اور مشتعل ہجوم نے 12 کے قریب احمدیوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا جس میں جھلس کر ایک ہی خاندان کے تین افراد اپنی جان سے گئے۔

سارہ (اصل نام ظاہر نہیں کیا گیا) اسی مکان میں آتشزدگی سے بچ جانے والی وہ خاتون ہیں جن کے نامولود بچے، دو بھتیجیوں اور والدہ کی زندگیوں کا فیصلہ کسی عدالت نے نہیں بلکہ ایک مشتعل ہجوم نے اسی گلی میں کیا۔

سارہ اس ہولناک رات کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’جب لوگ ہمارا گھر جلا رہے تھے تب تمام عورتیں اور بچے ایک کمرے میں بند تھے۔ میری والدہ بھی دھوئیں کی گھٹن سے ہلاک ہو گئیں اور میں خود بھی ایک ہفتے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہی۔‘

سارہ کہتی ہیں انھیں آج بھی سانس کی شدید تکلیف ہے مگر ان کے ذہن سے وہ لمحات نہیں بھلائے جاتے جب ان کا خاندان آگ کی شدت اور دھوئیں سے بلبلا رہا تھا تو باہر جمع ہجوم قہقہے لگا رہا تھا اور مکان کے اندر سے سامان لوٹ رہا تھا۔

انھوں نے سسکیاں لیتے ہوئے بتایا: ’میری ماں نے مجھ سے آخری مرتبہ پانی مانگا اور میرے پاس ان کو دینے کے لیے پانی بھی نہیں تھا۔ میری بھتیجی نے گھٹن میں میرے گھٹنے کو زور سے دبوچا اور پھر آہستہ آہستہ زندگی سے دور ہوتی گئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہجوم کرائے پر دینے کے سوال پر سھیل سکھیرہ نے کچھ تردد کے بعد کہا کہ ’میں متفق ہوں کہ اس کے پیچھے چلانے والے مخصوص لوگ ہی ہوتے ہیں ان میں کھانا اور پیسے بھی تقسیم ہوتے ہیں۔ اور ایک نظام ہے۔‘

گوجرانوالا میں ایک حافظ قرآن کی ہلاکت، کوٹ رادھا کشن میں ایک مسیحی جوڑے کی ہلاکت اور جلایا جانا، سیالکوٹ شہر میں دو بھائیوں حافظ مغیث اور حافظ منیب کا ایک ہجوم کے ہاتھوں قتل اور رحیم یار خان میں ایک مجذوب کا توہین مذہب پر جلایا جانا ہجوم کے ہاتھوں انصاف کی کئی مثالیں ہیں۔

اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام میں آخر انتظامیہ ناکام یا بے بس کیوں نظر آتی ہے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ایس ایس پی سہیل سکھیرہ کا کہنا تھا کہ ’یہ بتدریج انحطاط ہے کہ آپ نے دس بندوں کو کچھ نہیں کہا، پھر بیس بندے اکٹھے ہو گئے آپ نے انھیں کچھ نہیں کہا، پھر سو اکٹھے ہو گئے تو اب یہ حالت ہے کہ لوگ پولیس کے سامنے لوگوں کو زندہ جلا دیتے ہیں۔ جو میرے خیال میں یہ ناکامی ہے ریاست کی، پولیس کی اور معاشرے کی۔‘

تاہم اس کاروبار میں ملوث ایک اور شخص نے بڑے سکون سے کہا کہ ’یہاں ان علاقوں میں ایک طرح کی متوازی حکومت کام کر رہی ہے۔ پولیس والے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس لیے میری اُن سے درخواست ہے کہ وہ اپنا کام کریں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔‘

جب تک حکومت اس قسم کے کاروبار کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کرے گی اور عوام کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی جیسے فرائض ان لوگوں کے ہاتھوں میں رہیں گے تو کیا اُس وقت تک اس سب کی قیمت معصوم لوگ اپنے گھروں اور زندگیوں کی راکھ سمیٹ کر چکاتے رہیں گے؟

اسی بارے میں