سوات میں معیشت کا دارومدار آڑو کے باغات پر

Image caption سوات میں 12 سے 15 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر پھیلے ہوئے صرف آڑو کے باغات ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادیِ سوات سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار کے لیے نہایت اہم ہے۔

سنہ 2010 میں آنے والے سیلاب کے باعث سوات میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر پھیلے ہوئے آڑو کے باغات سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے تھے تاہم اب یہ باغات مکمل طور پر بحال ہو گئے ہیں۔

اس علاقے میں حالیہ چند برسوں کے دوران زمین کے بڑے حصوں کو باغات میں تبدیل کر دیاگیا ہے جس کی بنیادی وجہ پھلوں سے بہت حاصل ہونے والی زیادہ آمدنی بتائی جاتی ہے۔

پاکستان ہارٹی کلچر ڈیویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کونسل کے مطابق سنہ 2007 اور 2008 میں پھلوں کی کاشت کا رقبہ 13119 ہیکٹر تھا تاہم اس میں اب غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اب سوات میں 12 سے 15 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر پھیلے ہوئے صرف آڑو کے باغات ہیں۔

سوات میں آڑو کی 12 اقسام پیدا ہوتی ہیں، جن میں پہلی قسم مئی کے مہینے میں تیار ہوتی ہے جبکہ دوسری اقسام ستمبر کے آخر تک مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں۔ سوات فروٹ اینڈ ویجٹیبل ایسوسی ایشن کے مطابق سوات میں پیدا ہونے والے تمام پھلوں میں آڑو کی پیدوار سب سے زیادہ ہے جو تقریباً سالانہ چار لاکھ ٹن سے زائد ہے۔

آڑو کے موسم میں لاکھوں لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہو جاتا ہے اور آڑو کےایک عام باغ میں کم ازکم 100 مزدور کام کرتے ہیں جن کی کم سےکم اجرت 500 روپے تک ہوتی ہے۔

اس بارے میں برہ بانڈی میں آڑو کے باغ کے میں کام کرنے والے ایک مزدور عدنان نے کہ ’میرا تعلق چارسدہ کے علاقے سے ہے اور میں ہرسال آڑو کے موسم میں سوات کام کے لیے آتا ہوں کیونکہ سیزن میں مجھے ایک لاکھ روپے سے زائد کی بچت ہوتی ہے۔‘

Image caption سوات میں آڑو کی 12 اقسام پیدا ہوتی ہیں

ایسوسی ایشن کےصدر رحمت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ آڑو کے ایک ٹرک میں 20 سے 25 ٹن وزن ہوتا ہے جبکہ سوات سے روزانہ آڑو کے 200 سے زائد ٹرک ملک کی دیگر شہروں لاہور، اسلام آباد، گوجرانوالہ، کراچی اور پشاور جاتے ہیں۔ ان کے مطابق پشاور سے بھی یہ پھل خاصی مقدار میں افغانستان برآمد کیا جاتا ہے۔

رحمت علی کے مطابق آڑو کی مانگ خلیجی ممالک میں بہت زیادہ ہے مگر بدقسمتی سے حکومت کے پاس آڑو کی برآمد کی کوئی خاص پالیسی نہیں ہے۔ انھوں نےسنہ 2001 کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت بھارت سعودی عرب کو پھل برآمد کرنے کے 12 روپے فی کلو کے حساب سے چارج کرتا تھا جبکہ پاکستان میں 24 روپے ریٹ مقرر تھا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت زمینداروں کو سہولیات دے کیونکہ ملکی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے۔

اسی بارے میں