بس پر حملے کے ملزم کے والدین کا عدالت سے رجوع

تصویر کے کاپی رائٹ epa

کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے الزام میں گرفتار ملزم سعد عزیز کے والدین نے بیٹے سے ملاقات کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

پولیس نے ایم بی اے کی ڈگری یافتہ نوجوان سعد عزیز کو سماجی ورکر سبین محمود کے قتل میں بھی ملوث قرار دیا تھا۔

عدالت میں دائر درخواست میں سعد عزیز کے والد عزیز اختر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے اور اس کا کسی شدت پسند تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب سے سعد عزیز کوگرفتار کیاگیا ہے ان کی والدین کی ملاقات نہیں کرائی گئی ہے، اور انھیں خدشہ ہے سعد عزیز پر تشدد کیاگیا ہو گا۔

عزیز اختر نے پولیس پر یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ چھاپے کے وقت پولیس اپنے ساتھ، کمپیوٹر، سی ڈیز اور پرنٹر کے علاوہ سونے کے زیورات اور دیگر سامان بھی اٹھا کر لے گئی ہے۔

درخواست میں گزارش کی گئی ہے کہ پولیس کی لوٹ مار کی تحقیقات کرے اور سعد سے ملاقات کرانے کا انتظام کیا جائے۔

جسٹس صادق حسین بھٹی اور جسٹس حسن فیروز پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کو نوٹس جاری کر کے یکم جولائی تک جواب طلب کرلیا ہے۔

اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے، پولیس نے اس مقدمے میں سعد عزیز سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جبکہ نو تاحال مفرور ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ 30 افراد پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں