صوابی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ اور گھیراؤ جلاؤ

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے کے دوران مشتعل افراد نے بجلی کمپنی پیسکو اور سیشن جج کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگائی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان ہنگاموں میں پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

صوابی کے ضلعی پولیس سربراہ سجاد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی رات تقریباً تین ہزار کے قریب افراد صوابی کی تحصیل چھوٹا لاہور میں بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

انھوں نے کہا کہ مظاہرین نے پیسکو کے دفتر میں داخل ہوکر وہاں توڑ پھوڑ کی اور ریکارڈ کو تیل چھڑک کر آگ لگا دی جس سے تمام اہم فائلیں اور دیگر ریکارڈ جل کر خاکستر ہوگیا۔

پولیس افسر کے مطابق مظاہرین نے چھوٹا لاہور تحصیل کی کچہری کے احاطے میں بھی توڑ پھوڑ کی اور وہاں سیشن جج کے دفتر کو آگ لگائی جبکہ مشتعل مظاہرین فائر بریگیڈ کی گاڑی پر پتھر پھینک کر اس کے تمام شیشے توڑ دیے۔ مظاہرین نے کچہری کی حدود میں کھڑی دو موٹر سائیکلوں کو بھی تیل چھڑک کر آگ لگائی جس سے وہ تباہ ہوگئیں۔

انھوں نے کہا کہ مظاہرین نے کچھ دیر کے لیے پشاور اسلام آباد موٹر وے کو بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا، تاہم مقامی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد شاہراہ کھول دی گئی۔

پولیس افسر نے مزید بتایا کہ پولیس نے چھ افراد کو توڑ پھوڑ اور دفاتر کو آگ لگانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادم میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے جن میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

سجاد خان کے مطابق صوابی میں آج کل 18 سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی صحافی مقدم خان کا کہنا ہے کہ صوابی واحد ایسا ضلع ہے جہاں کے عوام نے تربیلہ ڈیم اور غازی بروتھا پاور پروجیکٹ کےلیے ہزاروں ایکڑ زمین دی ہے لیکن اس کے باوجود سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ یہیں ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ صوابی میں لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈیول معلوم نہیں اور کبھی کبھی مسلسل چار چار یا پانچ گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے جس سے مقامی باشندے مایوس ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ تین سال پہلے بھی صوابی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں