سندھ میں گرمی کی لہر برقرار، ’ ہلاکتیں 470 سے زیادہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گرمی کی شدید لہر کے بعد کراچی کے چند علاقوں میں بوندا باندی تو شروع ہوئی تاہم حبس اب بھی برقرار ہے

پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدید لہر کی وجہ سے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے مختلف شہروں میں مزید 250 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس طرح کراچی میں تین دن کے دوران گرمی کی شدت سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 470 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اموات کراچی شہر میں ہوئی ہیں جہاں حالیہ دنوں میں درجۂ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا۔

سیکریٹری صحت سعید منگنیجو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کراچی کے چار بڑے ہسپتالوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 300 کے قریب ہے جبکہ ’دیگر ہسپتالوں سے گرمی کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد معلوم نہیں ہے‘۔

جناح ہپستال کے شعبے ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کم از کم 200 افراد یا تو مردہ حالت میں ہسپتال لائے گئے تھے یا پھر ان کی ہسپتال میں موت ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 3000 افراد ہسپتال لائے گئے۔ ’ان میں سے اب بھی کم از کم 200 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔‘

ادویات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے بہت مدد کی ہے اور ادویات اور ضروری اشیا فراہم کی ہیں۔

سول ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مظفر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ سول ہسپتال میں ہلاکتوں کی تعداد 70 ہے ’تاہم تشویشناک حالت میں مریضوں کی تعداد ابھی نہیں معلوم‘۔

سیکریٹری صحت سعید منگنیجو کے مطابق لیاری ہسپتال میں 18 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

’ہم ایک فہرست مرتب کر رہے ہیں اور جلد ہی جاری کریں گے۔ اس کے علاوہ مریضوں کی تعداد میں شام سے کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلاحی ادارے ایدھی کے سرد خانے میں لاشوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے

سیکریٹری صحت سعید منگنیجو نے بی بی سی کو بتایا کہ اندرون سندھ جیکب آباد اور شکارپور میں تین تین، جبکہ لاڑکانہ میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ مرنے والوں میں زیادہ تعداد عمر رسیدہ افراد کی تھی: ’لُو کے شکار لوگوں کو ہسپتال لایا گیا جنھیں تیز بخار تھا اور ان کے حواس کام نہیں کر رہے تھے، ان میں پانی کی کمی تھی اور بے ہوشی کے دورے پڑ رہے تھے۔‘

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق سنیچر سے پیر کی صبح تک سرد خانے میں 350 کے قریب لاشیں لائی گئی تھیں جن میں 45 شناخت نہ ہونے کی وجہ سے دفنا دی گئی تھیں، جبکہ باقی لاشیں لواحقین اپنے ساتھ لائے ہیں۔

ایدھی کے ترجمان انور کاظمی کا کہنا ہے کہ ’سرد خانے میں 250 میتیں رکھنے کی گنجائش ہے۔ تین روز میں لائی گئی میتوں میں زیادہ تر عمر رسیدہ لوگوں، بچوں اور نشے کے عادی لوگوں کی میتیں شامل ہیں جن کے سر پر کوئی سایہ نہیں ہوتا۔‘

’اکثر لوگ اس لیے سرد خانے میں میتیں لے کر آئے تھے کہ گھروں میں خراب نہ ہوں کیونکہ تدفین کا بندوبست کرنے اور جنازے کے لیے عزیز و اقارب کے آنے میں سات سے آٹھ گھنٹے تو لگ ہی جاتے ہیں۔‘

شدید گرمی کے ساتھ ساتھ شہر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کے عملے کو لوگوں کے احتجاج کے باعث دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے اور ادارے کے ترجمان کے مطابق نارتھ ناظم آباد، بفر زون، ناگن چورنگی اور فیڈرل بی ایریا میں مشتعل افراد کی مزاحمت کے باعث مرمت کا کام شدید متاثر ہوا ہے۔

پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھی کے الیکٹرک کارپوریشن کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

صوبائی وزیر توانائی اور خزانہ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہر میں 1350 فیڈر ہیں جن میں سے صرف 100 کی معمول کی دیکھ بھال کی گئی تھی جس وجہ سے اس قدر فیڈرز کی شدید ٹرپنگ ہوئی ہے اور حالات خراب ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کے الیکٹرک کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ لوڈ شیڈنگ کا اتنا مسئلہ نہیں تھا کیونکہ طلب 3100 میگا واٹ تھی جبکہ 2600 ان کے پاس موجود تھی۔ مسئلہ یہ ہوا تھا کہ فیڈر ٹرپ کر گئے اور مرمت کے لیے عملہ موجود نہیں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسی بارے میں