’پی پی پی سے تنازع حل ہو گیا مگر آپریشن جاری رہے گا‘

Image caption آصف زرداری نے فوج کے خلاف بیان سندھ میں خراب طرز حکمرانی پر ہونے والی تنقید سے گھبرا کر جاری کیا تھا: مشاہد اللہ خان

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما اور ماحولیات کے وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے فوج کی موجودہ قیادت کے خلاف پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے بیان کی وضاحت کے بعد ان کے ساتھ تنازع حل ہو چکا ہے تاہم کراچی میں رینجرز کا آپریشن جاری رہے گا۔

فوج پر تنقید کی وجہ کیا تھی؟

ملاقات سے انکار

بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کا بیان واپس لے لیا ہے اور ایسی صورت حال میں حکومت کا بھی ان کے ساتھ گلہ شکوہ ختم ہو گیا ہے۔

’ایک طرح سے انھوں نے اپنا بیان واپس لے لیا ہے۔ آپ جب اس طرح کی تردیدیں کرتے ہیں تو آپ کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ پہلے بیان پر قائم نہیں ہیں۔ تو جب اس بیان کو کسی نے اپنایا نہیں، ہمیں کیا ضرورت ہے کسی کو اس میں گھسیٹنے کی۔‘

یاد رہے کہ آصف علی زرداری کی جانب سے فوجی قیادت کے خلاف بیان کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے سربراہ سے پہلے سے طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی تھی اور ان کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔

اس کے بعد آصف زرداری نے اپنی اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلایا تھا اور مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کے بیانات سے ایسا لگ رہا تھا کہ طویل عرصے سے مفاہمت کی پالیسی پر چلنے والی یہ دونوں جماعتیں سیاسی تصادم کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

بعد ازاں پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آصف زرداری کا مخاطب فوج کی موجودہ قیادت نہیں بلکہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف تھے۔

وزیراعظم کے قریب سمجھے جانے والے سینیئر مسلم لیگی رہنما کے مطابق اس وضاحت کے بعد پیپلز پارٹی سے معمول کے تعلقات بحال ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آصف زرداری کے فوج پر تنقیدی بیان کے بعد وزیراعظم نے ان سے ملاقات منسوخ کر دی تھی

مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ان کی جماعت میثاقِ جمہوریت کی پابند ہے اور اب پیپلز پارٹی سے تلخی ختم ہو چکی ہے۔

’ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہمارے تعلقات برقرار رہیں گے کیونکہ ان کے اندر بھی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، جن کی پیپلز پارٹی کے لیے قربانیاں ہیں، اور ہمارے پیپلز پارٹی سے تعلقات کی بنیاد میثاق جمہوریت ہے۔ ہم اس سے کبھی بھی پیحھے نہیں ہٹیں گے اور پیپلز پارٹی کو ساتھ لے کر چلیں گے۔‘

مشاہد اللہ خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور اس کے سربراہ آصف زرداری کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے باوجود کراچی میں رینجرز کا آپریشن جاری رہے گا کیونکہ یہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے شروع ہوا تھا۔

’آپریشن ضربِ عضب ہو یا کراچی میں رینجرز کی کارروائی، یہ سب آپریشن پیپلز پارٹی اور آصف زرداری سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی اجازت اور دستخط سے ہو رہے ہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان آپریشنز کو منطقی انجام تک پہنچائے۔‘

ایک سوال پر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ویسے تو اس متنازع بیان کا مسئلہ حل ہو چکا ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ آصف زرداری نے فوج کے خلاف بیان سندھ میں خرابِ طرز حکمرانی پر ہونے والی تنقید سے گھبرا کر جاری کیا تھا۔

’بنیادی طور پر معاملہ گورننس کا ہے، خاص طور پر سندھ کا۔ وہاں کی جو منتخب جماعتیں ہیں انھوں نے وہاں کے عوام کو کیا دیا ہے؟ اس کے علاوہ وہاں خوفناک قسم کی کرپشن ہوئی ہے۔ اس کرپشن کو روکنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر خود حکومت کے لوگ اس میں ملوث ہیں تو ان کے سامنے بھی رکاوٹ کھڑی کرنی چاہیے۔‘

اسی بارے میں