شمالی وزیرستان کے پناہ گزینوں کی ہلاکت پر پشاور میں مظاہرہ

Image caption سردار ملک جلال کہنا ہے کہ آئی ڈی پی کیمپ بکاخیل میں سہولیات کا پہلے ہی سے فقدان پایا جاتا تھا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں شمالی وزیرستان کے عمائدین اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی طرف سے تین دن پہلے بکاخیل متاثرین کیمپ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ میں دو پناہ گزینوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

منگل کو پشاور پریس کلب کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں شمالی وزیرستان کے اتمانزئی قبائل کے مشران، سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ نے شرکت کی۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینر اٹھا رکھے تھے جس پر پناہ گزینوں کے قاتلوں کو سزا دینے اور پشتونوں کی ’نسل کشی بند کرنے‘ جیسے نعرے درج تھے۔

اس موقع پر مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پناہ گزینوں پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث سکیورٹی اہلکاروں کو فوری طورپر گرفتار کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

مظاہرے میں شامل اتمانزئی قبیلے کے ایک قبائلی سردار ملک جلال نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے نہتےپناہ گزینوں پر فائرنگ کر کے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، لہٰذا اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہییں اور قاتلوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ آئی ڈی پی کیمپ بکاخیل میں سہولیات کا پہلے ہی سے فقدان پایا جاتا تھا، جس کی وجہ سے وہاں متاثرین کی زندگی انتہائی مشکل سے گزر رہی ہے۔

قبائلی سردار کے مطابق ایسے پناہ گزین کیمپوں کو فوری طورپر بند کیا جائے اور متاثرین کو آزاد چھوڑا جائے تاکہ وہ اپنے طور پر اپنی مرضی کے مطابق اپنی رہائش کا بندوبست کرسکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بکاخیل میں قائم متاثرینِ شمالی وزیرستان کے کیمپ میں سکیورٹی فورسز اور پناہ گزینوں کے مابین تصادم کے نتیجے میں دو آئی ڈی پیز ہلاک اور نو زخمی ہوگئے تھے

وہاں پر موجود قبائلی ملک نے ذرائع ابلاغ بالخصوص نجی ٹی وی چینلوں کی جانب سے بےگناہ آئی ڈی پیز کی ہلاکت کی خبریں نہ دینے پر ان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر شہروں میں چھوٹے سے چھوٹے واقعے کی رپورٹ بھی نشر کی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا قبائل میں بےگناہ ہلاکتوں کو کوئی توجہ نہیں دیتا۔

اُدھر بکاخیل پناہ گزین کیمپ کے مکینوں نے حکومت اور قبائلی جرگے کی جانب سے ان مسائل کو حل کرانے کی یقین دہانیوں کے بعد متاثرین کیمپ چھوڑنے کا فیصلہ تاحال موخر کر دیا ہے۔

قبائلی جرگے کے اراکین کے مطابق حکومت اور سکیورٹی فورسز نے ایک ہفتے کے اندر اندر بکاخیل کیمپ میں پانی اور بجلی کے مسائل ترجیح بنیادوں پر حل کرانے یقین دہانی کرائی ہے ۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اگر متاثرین کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے تو پھر تمام پناہ گزینوں کو کیمپ چھوڑنے کا اختیار حاصل ہوگا جبکہ اس سلسلے میں جرگہ ان کے راہ میں کوئی روکاوٹ نہیں بنےگا۔

خیال رہے کہ اتوار کی شام ایف آر بنوں کے علاقے بکاخیل میں قائم متاثرینِ شمالی وزیرستان کے کیمپ میں سکیورٹی فورسز اور پناہ گزینوں کے مابین تصادم کے نتیجے میں دو آئی ڈی پیز ہلاک اور نو زخمی ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد احتجاج کے طور پر متاثرین بکاخیل کیمپ نے متفقہ طور پر کیمپ خالی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم قبائلی جرگہ کی کوششوں سے تاحال کمیپ خالی کرنے کے فیصلے کو موخر کر دیا گیا ہے۔ جرگہ ممبران کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مذاکرات کا سلسلہ عید الفطر کے بعد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

اسی بارے میں