اپوزیشن کا کراچی ہلاکتوں پر 26 جون کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں شدید گرمی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 470 سے تجاوز کر گئی ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن جماعتوں نے کراچی میں ہلاکتوں کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد کرتے ہوئے 26 جون کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ کراچی میں گذشتہ تین روز کے دوران شدید گرمی، لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے چار سو سے تجاوز کر چکی ہے۔

بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور کراچی میں ہلاکتوں کے خلاف حزبِ مخالف کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ہمراہ منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے حکومت نے دعوے تو بہت کیے لیکن عملی طور پر اقدامات نہیں کیے گئے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کے علاوہ اندرونِ سندھ میں بھی بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کی اموات ہوئیں جو افسوسناک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات کراچی شہر میں ہوئی ہیں جہاں حالیہ دنوں میں درجۂ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا

سید خورشید شاہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں موجود حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے 26 جون کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

حزب مخالف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں کراچی میں گرمی کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

خورشید شاہ نے کہا کہ میٹرو بس منصوبہ اچھا ضرور ہے لیکن انسانی جانوں سے قیمتی نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اس دوران قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کروا دیا تو حزب مِخالف کی جماعتیں اجلاس دوبارہ بلانے کے لیے درخواست دیں گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج وہ چیف جسٹس ہوتے تو وہ ان ہلاکتوں سے متعلق ضرور از خود نوٹس لیتے۔ اُنھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتوں کی غیر موجودگی میں حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی سے کٹوتی کی تحاریک کو منظور کروانا ایک افسوناک امر ہے۔

اس سےقبل پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے ایوان کو بتایا کہ کراچی میں کے الیکٹرک پر وفاقی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس علاقے میں بجلی کی ترسیل کو یقینی بنانے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملے میں دیگر سیاسی جماعتوں کا تعاون بھی درکار ہے۔

اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بجلی کے بحران نے حزبِ مخالف کی جماعتوں کو متحد کر دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا انتہائی اہم مسئلہ ملک کو درپیش ہے لیکن پانی وبجلی کے وفاقی وزیر ایوان میں موجود ہی نہیں۔

اسی بارے میں