شانگلہ کی 15 سالہ طالبہ کا اعزاز

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ندرت ڈاکٹر بن کر انسانی ترقی کے اعتبار سے پیچھے رہ جانے والے اس پسماندہ ضلعے کے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی ہیں

15 سالہ ندرت شاہین کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے جنھوں نے میٹرک کے امتحان میں لڑکیوں میں اپنے ضلعے میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔

سرکاری سکول میں پڑھنے والی ندرت شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ سرکاری سکولوں کی نسبت پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں نہ صرف تعیلمی معیار بہتر ہوتا ہے بلکہ سہولیات بھی زیادہ ہوتی ہیں، لیکن اگر اگے بڑھنے کی سچی لگن ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اگلی جماعتوں میں بھی اپنی اس روایت کو برقرار رکھ کر اپنے علاقے کا نام روشن کریں گی اور دنیا کو باور کرائیں گی کہ اس علاقے کی بچیاں کسی سے کم نہیں۔

ان کے مطابق وہ مستقبل میں ڈاکٹر بن کر انسانی ترقی کے اعتبار سے پیچھے رہ جانے والی اس پسماندہ ضلعے کے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔

ندرت شاہین کے والد روزی خان ریٹائرڈ سکول ٹیچر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اپنی بیٹی کو بہتر سے بہتر تعلیم دلوانے کا عزم کیا ہوا ہے، جس کے لیے میں نے اپنی زمین تک بیچ دی ہے اور بینک سے قرضہ بھی لیا ہے۔ میری بیٹی اس عزم کو پورا کرتی دکھائی دے رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں اپنی بیٹی کے کارکردگی سے بہت خوش اور مطمئن ہوں، تاہم مالی تنگدستی تعلیم میں رکاوٹ بن رہی ہے۔‘

شانگلہ پانچ لاکھ سے زائد آبادی والا ایک ایسا خوبصورت آبشاروں اور گھنے جنگلات پر مشتمل علاقہ ہے، مگر بدقسمتی سے یہ ضلع تعلیمی لحاظ سے صوبے کے دیگر اضلاع سے بہت پیچھے ہے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فی میل کے دفتر سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق ضلعے میں لڑکیوں کے 196 سکول ہیں جن میں 169 پرائمری، 20 مڈل، چار ہائی اور تین ہائر سیکنڈری سکول ہیں۔

ان سکولوں میں 16681 طالبات زیر تعلیم ہیں جن کے لیے 416 استانیاں ہیں۔ خواتین کی تعلیمی شرح تقریباً 14 فیصد ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی یونیورسٹی کا کیمپس موجود نہیں ہے۔ ضلعے میں لڑکوں کے تین ڈگری کالج ہیں جبکہ تاحال طالبات کے لیے کوئی ڈگری کالج موجود ہی نہیں ہے۔

ضلعے کے 90 فیصد لوگ پہاڑوں میں آباد ہیں، جہاں اکثر علاقوں میں پرائمری سطح پر بچوں کے تعلیم کے لیے سکول موجود ہی نہیں ہیں، جبکہ خصوصاً لڑکیوں کے لیے سکولوں کی انتہائی کمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالی طور پر مستحکم طالبات ہی دسویں جماعت سے آگے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھ پاتی ہیں۔

نوبل انعام یافتہ اور لڑکیوں کے تعلیم کے لیے کام کرنے والی سرگرم کارکن ملالہ یوسف زئی کا تعلق بھی ضلع شانگلہ سے ہے۔ اس علاقے کی گرلز ہائر سیکنڈری سکول پورن کی طالبات نے ملالہ سے علاقے میں لڑکیوں کے کالج اور یونیورسٹی کے تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کے مطابق وہ بھی ملالہ جیسا بننا چاہتی ہیں، تاہم علاقے میں تعلیمی سہولیات مسیر نہ ہونے کی وجہ سے ان کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو رہا۔

اس علاقے کے ایک شخص سہیل نے بتایا کہ علاقے میں تعلیمی صورتحال نہایت کمزور ہے، حالانکہ وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام کا تعلق بھی اسی علاقے ہے، تاہم وہ بھی سکولوں کی حالت زار اور تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے خود کو بےخبر رکھے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں