پشاور میں دو افغان بچوں میں کانگو وائرس کی تصدیق

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں افغانستان کے رہائشی دو بچوں میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق دو ماہ میں افغانستان سے کانگو وائرس سے متاثرہ نو مریضوں کو علاج کے لیے پشاور لایا گیا جن میں تین کی اموات ہو چکی ہیں۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کانگو وائرس کے فوکل پرسن ڈاکٹر محمد عمران نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان سے دو بچوں کو گذشتہ روز علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا ہے جن کی عمریں دس سے 12 سال کے درمیان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شدید گرمی کے آغاز سے ہی افغانستان سے اس مہلک مرض میں مبتلا مریضوں کو لایا جا رہا ہے اور اب تک ڈیڑھ سے دو ماہ کے دوران نو مریض حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں لائے گئے ہیں اور ان تمام کا تعلق افغانستان سے تھا۔

ڈاکٹر عمران نے بتایا کہ ان میں تین مریض ایسے تھے جو اس بیماری کے دوران انتقال کر گئے ۔

ڈاکٹروں کے مطابق یہ وائرس مال مویشیوں میں موجود پسو کی مدد سے انسانوں حملہ کرتا ہے جس کے بعد شدید بخار ہوتا ہے اور اس کے بعد ناک، منھ اور جسم کے دیگر حصوں سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے ۔

ڈاکٹر عمران نے بتایا کہ پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں پرائیویٹ رومز کے ساتھ پانچ کمروں پر مشتمل آئسولیشن یونٹ قائم کیا گیا ہے جہاں کانگو وائرس سے متاثرہ مریضوں کو رکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس انتہائی خطرناک ہے اور اس سے متاثرہ مریض سے یہ وائرس دیگر افراد کو پھیل جاتا ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ سال ایک نجی ہسپتال میں ایک نوجوان ڈاکٹر اسی طرح کے ایک مریض کے علاج کے دوران متاثر ہوئے اور پھر جان کی بازی ہار گئے تھے۔

طبّی ماہرین کہنا ہے کہ اس طرح کے وائرس سے متاثرہ افراد دیگر افراد کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے حکام کو واضح پالیسی ختیار کرنا چاہیے۔

یہ تجویز بھی کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے مریض اور ان کے رشتہ دار بازاروں اور عوامی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں جس سے یہ وائرس دیگر افراد کو متاثر کر سکتا ہے اس لیے ایسے افراد کے علاج کے لیے باقاعدہ انتظام کیا جانا چاہیے۔