ڈیرہ جیل حملہ: غفلت برتنے پر 40 پولیس اہلکار برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جولائی 2013 میں درجنوں شدت پسندوں نے ڈیرہ اسمعیل خان سینٹرل جیل پر رات کی تاریکی میں حملہ کر کے 283 قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسمعیل خان میں حکام کا کہنا ہے کہ ضلعے کی مرکزی جیل پر دو سال پہلے طالبان کے حملے کے دوران غفلت برتنے کے الزام پر 40 پولیس اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

ڈیرہ اسمعیل خان کے ضلعی پولیس سربراہ صادق بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ سینٹرل جیل پر حملے کے بعد 150 اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

ان اہلکاروں میں پولیس کے علاوہ عملے کے دیگر اہلکار بھی شامل تھے۔

انھوں نے کہا کہ اب انکوائری مکمل ہونے پر 40 پولیس اہلکاروں کو غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے جس کے بعد انھیں نوکریوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

برطرف ہونے والے اہلکاروں میں ایک اے ایس آئی، چار ہیڈ کانسٹیبل اور دیگر سپاہی شامل ہیں۔

پولیس افسر کے مطابق برطرف کیے گئے پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی جیل کے مرکزی گیٹ اور عمارت کی دیگر اہم مقامات پر تھی جہاں سے حملہ آور داخل ہوئے تھے تاہم انھوں نے حملہ آوروں کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطرف ہونے والے اہلکاروں میں ایک اے ایس آئی، چار ہیڈ کانسٹیبل اور دیگر سپاہی شامل ہیں

اس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی جانب سے بھی جیل حملے کے بعد کئی افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ان میں سے بعض افسران کو تو ان کے عہدوں پر دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا جبکہ کچھ اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

خیال رہے کہ تقریباً دو سال پہلے جولائی میں درجنوں شدت پسندوں نے ڈیرہ اسمعیل خان سنٹرل جیل پر رات کی تاریکی میں حملہ کر کے 283 قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا۔

صوبے کی تیسری بڑی جیل پر ہونے والے اس حملے میں چھ سکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

اس کارروائی کے دوران رہا کروائے جانے والوں قیدیوں میں بیشتر شدت پسند تھے اور اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی تھی۔

اس سے قبل سنہ 2012 میں بھی خیبر پختونخوا کے ہی ضلع بنوں کی سینٹرل جیل پر طالبان نے حملہ کیا تھا اور 384 قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا۔

اسی بارے میں