کراچی سمیت سندھ میں گرمی سے ہلاکتیں 850 سے زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شہر کے درجۂ حرارت میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے تاہم اس کے باوجود ہسپتالوں میں متاثرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں جان لیوا گرمی سے مرنے والوں کی تعداد 835 سے بڑھ گئی ہے جبکہ اندرونِ سندھ بھی 20 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سندھ حکومت نے صوبے کے تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر رکھی ہے اور انتظامیہ کو متاثرین کے علاج کے لیے طبی عملے اور ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

کراچی کے عوام گرمی سے بےحال: تصاویر

’49 ڈگری ہیٹ انڈیکس اموات کی وجہ بنا‘

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پورے صوبے میں بدھ کو شدید گرمی کے باعث عام تعطیل ہے اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ عام تعطیل کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ گھروں میں رہیں۔

صوبائی محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق گرمی کی شدید لہر کی وجہ سے منگل اور بدھ کو مزید ساڑھے تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

کراچی میں چار دن کے دوران گرمی کی شدت سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 837 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ پی ٹی وی کے مطابق صرف ٹھٹھہ میں گرم موسم کی وجہ سے 22 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اندرون سندھ میں جیکب آباد، شکارپور اور لاڑکانہ میں بھی آٹھ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

جناح ہپستال کے شعبۂ ہنگامی امداد کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے منگل کی شب بی بی سی اردو کے رضا ہمدانی کو بتایا کہ جناح ہسپتال میں مرنے والوں کی تعداد 279 ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب بھی دس افراد کی حالت تشویشناک ہے اور ایمرجنسی اور دیگر وارڈوں میں کُل مریضوں کی تعداد 160 ہے۔‘

سرکاری ٹی وی کے مطابق سول ہسپتال میں ہلاکتوں کی تعداد 108 تک پہنچ گئی ہے۔

عباسی شہید ہپستال میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 164 بتائی گئی ہے جبکہ لیاقت نیشنل ہسپتال میں 72 افراد دم توڑ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption متاثرین میں زیادہ تر ادھیڑ عمر اور عمر رسیدہ افراد شامل ہیں

منگل کو شہر کے درجۂ حرارت میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی تاہم اس کے باوجود ہسپتالوں میں متاثرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان انور کاظمی کے مطابق سنیچر سے منگل تک سرد خانے میں 500 سے زیادہ لاشیں لائی گئیں اور یہ تعداد مردہ خانے میں لاشیں رکھنے کی گنجائش سے کہیں زیادہ تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لاشیں مردہ خانے میں نہیں لائی گئیں۔

کراچی میں ہلاکتوں میں کسی حد تک بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے بھی کہا ہے کہاگر لوڈشیڈنگ نہ ہوتی تو اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے بچا جا سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کراچی میں چار دن کے دوران گرمی کی شدت سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 781 تک پہنچ گئی

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سندھ اسمبلی کے اراکین بدھ کو اسمبلی کے باہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کر رہے ہیں جس کی قیادت وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کریں گے۔

منگل کی شب وزیر اعلیٰ سندھ نے کے الیکٹرک کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس میں ہدایت کی تھی کہ کمپنی اپنی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کرے تاکہ اس کی کارکردگی اور رسائی میں بہتری آ سکے۔

انھوں نے پولیس اور رینجرز کو ہدایت کی کہ کے الیکٹرک کے عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

واضح رہے کہ کے الیکٹرک کے ترجمان کہنا ہے کہ مشتعل افراد کی مزاحمت کی وجہ سے انھیں خرابی دور کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستانی فوج اور رینجرز نے صوبے بھر میں چھاؤنیوں کے علاقوں میں ہیٹ سنٹر قائم کیے ہیں

اسی بارے میں