وفاقی حکومت نے ’سیو دی چلڈرن‘ پر عائد پابندی ختم کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption اسلام آباد کی انتظامیہ نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ وزارتِ واخلہ کے کس افسر کے حکم پر اس تنظیم کے دفتر کو دوبارہ کھولا گیا ہے

وفاقی حکومت نے بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ پر عائد پابندی اُٹھا لی ہے اور اس ضمن میں اسلام آباد میں اس تنظیم کے دفتر کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

سیو دی چلڈرن کے میڈیا رابطہ کار سعید منہاس نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ ان کی تنظیم کے دفتر کو ضلعی حکام نے کھول دیا ہے۔

اس تنظیم کو چند روز قبل وفاقی وزارتِ داخلہ کے حکم پر بند کر دیا گیا تھا اور اس سلسلے میں 11 جون کو ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ جس میں اس تنظیم میں کام کرنے والے غیر ملکی افراد کو 15 روز میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔

’مفاد کے حلاف سرگرمیوں کا مطلب کیا

اسسٹنٹ کمشنر سٹی سرکل کامران چیمہ نے بدھ کو بی بی سی کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کو وزارتِ داخلہ کی طرف سے سیو دی چلڈرن کے دفتر کو ڈی سیل کرنے کے زبانی احکامات ملے ہیں جن کی تعمیل کر دی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کی طرف سے اس بارے میں تحریری احکامات موصول نہیں ہوئے جس میں اُن وجوہات کا بھی ذکر ہو گا جن کو بنیاد بناتے ہوئے اس تنظیم کے دفاتر کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ سیو دی چلڈرن پر پابندی برقرار ہے اوراس پر پابندی اُٹھانے سے متعلق خبریں درست نہیں ہیں۔ تاہم اس کے برعکس بدھ کے روز اسلام آباد کی انتظامیہ نے وزارت داخلہ کے حکم پر اس تنظیم کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع دفتر کو دوبارہ کھول دیا۔

اسلام آباد کی انتظامیہ کے اہلکاروں نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ وزارتِ واخلہ کے کس افسر کے حکم پر اس تنظیم کے دفتر کو دوبارہ کھولا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان میں کام کرنے والی تمام غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں کو چھ ماہ تک کام کرنے کی اجازت دی ہے اور اس عرصے کے دوران ان تنظیموں کی رجسٹریشن اور سکیورٹی کلیرنس کے معاملات کو بھی دیکھا جائے گا۔

ان غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن کی ذمہ داری اقتصادی امور کی ڈویژن سے لے کر وزارتِ داخلہ کو سونپ دی گئی ہے۔

اسی بارے میں