’جیسے آکسیجن ختم ہوگئی اور لوگ گر رہے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں حکام کے مطابق گرمی سے 11 سو سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں شدید گرمی کی حالیہ لہر سینکڑوں جانیں لینے کے بعد اب ختم ہو رہی ہے لیکن اب بھی بہت سے لوگ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

ملک میں فلاحی کاموں کی ایک بڑی غیر سرکاری تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینسوں نے گرمی کے سبب ہلاک ہونے والے افراد اور متاثرین کی ایک بڑی تعداد کو ہسپتال میں پہنچایا۔

’اموات کی وجہ 49 ڈگری ہیٹ انڈکس‘

ایدھی میں 17 برس سے ایمبولینس چلانے والے محمد فاروق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس سے پہلے کبھی ایسی گرمی نہیں دیکھی جیسی ان تین دنوں میں دیکھی۔

’ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اور ایسے لگ رہا تھا کہ اچانک فضا میں آکسیجن ختم ہو گئی ہے اور سامنے کھڑے افراد سانس نہ لینے کی وجہ سے کھڑے کھڑے گر رہے ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ماہِ رمضان کے آغاز پر گرمی کی وجہ سے بیمار ہونے والے افراد کے بارے میں دن میں دو سے تین کالز آ جاتی تھیں لیکن اس کے بعد ہر سات سے دس منٹ میں ہمیں ملنے والی ہنگامی مدد کی کالیں گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہو جانے والے افراد کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والے افراد میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد زیادہ بتائی جا رہی ہے

محمد شفیق گلشن اقبال اور اس سے متصل علاقوں میں ایدھی ایمبولینس سروس دیتے ہیں۔

ان کے مطابق ابتدائی طور پر گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہونے والے افراد کو ہسپتال پہنچانا شروع کیا لیکن اس کے بعد صورتحال ایسی بھی ہو گئی کہ گھروں میں اکیلے رہنے والے افراد کی گرمی کی شدت سے ہلاکتوں کی اطلاعات ملنے لگیں۔

منگل کو عمارت کی ساتویں منزل سے ایک شخص کی لاش نکالی جو گرمی کی شدت سے ہلاک ہو گیا تھا۔‘

محمد شفیق کے بقول سڑکوں پر بے ہوش ہونے والے زیادہ تر افراد عمر رسیدہ تھے اور انھیں پہلے ابتدائی طبی امداد دی جاتی تھی کہ کسی طرح سے ہوش میں لایا جائے لیکن ایسا نہیں ہوتا تھا اور ان میں سے کئی ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ چکے تھے۔

انھوں نے کہا کہ سڑکوں کے علاوہ گھروں میں بے ہوش ہونے والے افراد کو بھی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

13 سال سے ایمبولینس چلانے والے محمد شفیق کے مطابق ’شہر میں بم دھماکوں اور فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کے بارے میں معلوم ہو جاتا تھا کہ کیا کرنا ہے، لیکن اس بار خود کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ لوگوں کی حالت کیسی ہے۔ بالکل ایسے تھا کہ قیامت کا منظر ہو اور جسے بیان کرنا بھی مشکل ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والے میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں

لیاری کے علاقے میں 22 سال سے ایدھی ایمبولینس سروس دینے والے واحد حسین نے بھی گرمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے غیر معمولی صورت حال کو زندگی کا پہلا تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سڑک کے کنارے بے ہوش ہونے والوں میں سے کئی ایسے بھی تھے کہ ایمبولینس میں منتقل کرتے کرتے ان کی موت واقع ہو گئی۔

انھوں نے کہا کہ عمر رسیدہ افراد کے علاوہ جوانوں کی بھی بڑی تعداد گرمی سے متاثر ہوئی اور ان میں وہ افراد بھی تھے جو کام کے بعد بسوں کی چھتوں پر یا اندر بیٹھ کر گھروں کو واپس جا رہے تھے کہ کسی جگہ ٹریفک جام میں بس پھنس گئی تو گھٹن کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے۔

اسی بارے میں