فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC urdu
Image caption سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کرے گی جس کے تحت سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو بہت زیادہ بااختیار بنا دیا گیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے 21ویں آئینی ترمیم کے تحت دہشت گردی کے مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام اور 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر کے طریقۂ کار کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایسے قانون کی حمایت نہیں کی جا سکتی جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہو۔

عدالت میں ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار کے خلاف 18 جبکہ فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف پانچ درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

عدالت نے اس بات کا اعلان نہیں کیا کہ ان درخواستوں پر فیصلہ کب سنایا جائے گا۔

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے جمعے کے روز اپنے دلائل مکمل کیے جس میں اُنھوں نے موقف اختیار کیا کہ قانون سازی کا اختیار عدالت عظمیٰ کے پاس نہیں بلکہ عوامی نمائندوں کے پاس ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ عوام کا نمائندہ فورم ہے اس لیے وہ ایسی قانون سازی کرتی ہے جو ملک اور قوم کے مفاد میں ہو۔

بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائض عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ سمیت سب عوام دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن فوجی عدالتوں میں مقدمات بھیجنے کا اختیار حکومت نے اپنے پاس رکھا ہے، اس کی وجہ سے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہو گی۔

بینچ میں موجود جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کرے گی جس کے تحت سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو بہت زیادہ با اختیار بنا دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں دو بڑی جماعتوں، جن میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں، کے رہنما ملک سے باہر تھے اس لیے شاید 63 اے کو آئین میں شامل کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ جب ملک میں جمہوریت مضبوط ہو تو اس قانون کو تبدیل کر دیا جائے۔

اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں ووٹنگ کے ذریعے اپنی پارٹی کا سربراہ مقرر کرتی ہیں جس پر جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عوام ووٹوں کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور ان نمائندوں کو بھی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے عمل میں بھی کردار دیا گیا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت تسلسل کے ساتھ کبھی بھی نہیں رہی اور مارشل لا کے نفاذ سے ملکی جمہوریت کو نقصان پہنچا۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے سیاست دانوں پر مشتمل کنگز پارٹی بنائی اور ایسے قوانین بھی بنائے جو اُن کے اقتدار کو طول دے سکیں۔

آصف سعید کھوسہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے پارلیمنٹ میں آنے کے لیے بی اے کی شرط رکھی۔ اُنھوں نے کہا کہ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان اُس دور میں ہوتے تو شاید وہ کبھی بھی پارلیمنٹ کا حصہ نہ بن سکتے۔

سماعت کے دوران اسلام آباد اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز نے بھی اٹارنی جنرل کے دلائل سے اتفاق کیا جس کے بعد عدالت نے ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسی بارے میں