گرمی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی، پچاس کی اجتماعی تدفین

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مریضوں کی آمد میں کمی ہواقع ہوئی ہے اور جناح ہسپتال میں گذشتہ پانچ روز میں 338 افراد ہلاک ہوچکے ہیں

پاکستان کے شہر کراچی میں گرمی کی شدت میں ہلاک ہونے والے 50 نامعلوم افراد کی آج اجتماعی نمازے جنازہ ادا کی گئی۔

یہ ماضی قریب میں پہلی بار تھا کہ موسمی حالات میں ہلاک ہونے افراد کی اجتماعی نماز ادا کی گئی ہو۔

ساحلی شہر میں حالیہ گرمی کی لہر میں 1100 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ہپستالوں میں 39000 متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔

ہلاکتوں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی کہ شہر میں موجود ایدھی فاؤنڈیشن کے سب سے بڑے سرد خانے میں بھی جگہ کم پڑ گئی جس وجہ سے روایتی طور پر ایدھی تین روز میتیں رکھنے کے بجائے ان کی جلد تدفین کی گئی۔

اس سے پہلے 100 نامعلوم افراد کی تدفین ہوچکی ہے۔

جمعہ کو پچاس نامعلوم افراد کی اجتماعی نماز جنازہ میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی نے بھی شرکت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی عمر میں گرمی کی شدت میں اس سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں کبھی ہلاکتیں نہیں دیکھیں۔

مواچھ گوٹھ میں واقع ایدھی قبرستان المعروف نامعلوم افراد قبرستان میں 150 قبروں کا رواں ہفتے اضافہ ہوچکا ہے۔ یہ افراد گرمی کی شدت میں ہلاک ہوئے تھے۔ ایدھی حکام کے مطابق 1948 سے قائم اس قبرستان میں ڈیڑہ لاکھ سے زائد نامعلوم افراد کی تدفین کی گئی ہے۔

ادھر آغا خان یونیورسٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 5 روز میں ہپستال میں 353 مریضوں کی آمد ہوئی جس میں سے 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ ان مریضوں میں زیادہ تر میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی کمی تھی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں گرمی سے متاثرہ مریضوں کی آمد میں کمی ہوئی اور اس عرصے میں صرف 43 افراد یہاں طبی امداد کے لیے پہنچے۔

جناح ہپستال کے شعبے حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کا بھی کہنا ہے کہ مریضوں کی آمد میں کمی ہواقع ہوئی ہے۔ جناح میں گذشتہ پانچ روز میں 338 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ اور وزیر مملکت برائے قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں شدید گرمی سے متاثرہ مریضوں کی عیادت کی۔

عبدالقادر بلوچ نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پروہ زمینی حقائق سے آگاہی حاصل کرنے یہاں آئے ہیں۔

دریں اثنا سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں لوگ بالکل بھی اکیلے نہیں وہ ہمیشہ کی طرح ہر مشکل گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس قدرتی آفت کے دوران بھی لوگ سیاست چمکا رہے ہیں، عمران خان نے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے کوئی بھی اعلان نہیں کیا اور صرف اپنی سیاست کی مگر وہ عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں