بی بی سی رپورٹ: پاکستان نے برطانوی حکومت سے مدد مانگ لی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک خط کے ذریعے برطانوی حکومت سے مدد مانگی ہے

پاکستان نے متحدہ قومی موومنٹ کے بارے میں بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ میں پیش کردہ حقائق تک رسائی کے لیے برطانوی حکومت سے مدد مانگ لی ہے۔

یہ مدد پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک خط کے ذریعے برطانوی حکومت سے مانگی ہے جو جمعے کی سہ پہر کو تحریر کیا گیا ہے۔

’ایم کیو ایم کو بھارتی حکومت سے مالی مدد ملتی رہی‘

اگر کوئی ثبوت ہے تو سامنے لایا جائے، ایم کیو ایم کا مطالبہ

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایم کیو ایم کے لندن میں مقیم دو رہنماؤں نے برطانوی تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ ان کی جماعت بھارت سے رقم وصول کرتی رہی ہے۔

برطانوی حکام کے نام اس خط کا مسودہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیر نگرانی وزارت قانون اور داخلہ کے حکام نے مل کر تیار کیا تھا، تاہم سفارتی روایات کے پیش نظر اسے وزارت خارجہ کے ذریعے برطانوی حکام کو بھیجا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ خط میں بی بی سی کی بدھ کے روز نشر ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان ان حقائق تک رسائی چاہتی ہے جو بی بی سی کی رپورٹ میں بیان کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایم کیو ایم کے لندن میں مقیم دو رہنماؤں نے برطانوی تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ ان کی جماعت بھارت سے رقم وصول کرتی رہی ہے

خط میں اسی موضوع پر ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی مشاورت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے بی بی سی کی رپورٹ میں بیان کردہ حقائق پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ اس نازک اور تشویش ناک معاملے کے حقائق تک فوری طور پر پہنچا جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے جس کا تعلق اس کی سکیورٹی سے ہے لہٰذا اس بارے میں حقائق تک رسائی کی اس درخواست پر فوری غور کیا جائے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ پاکستانی حکومت متحدہ قومی موومنٹ کے بارے میں بی بی سی کی رپورٹ میں لگائےگئے الزامات سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے برطانوی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی بی سی کی رپورٹ نے بہت سنگین مسئلے کی نشاندہی کی ہے جو مناسب تحقیقات کا متقاضی ہے۔

اسی بارے میں