پنجاب اسمبلی میں ایم کیو ایم کے خلاف قرارداد منظور

Image caption پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے قرارداد ایوان میں پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی

پنجاب اسمبلی نے متحدہ قومی مومنٹ سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ پر اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

قرارداد تحریکِ انصاف کے رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال نے جعمے کو جمع کروائی جس کی حکومتی ارکان نے حمایت کی۔

پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے قرارداد ایوان میں پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان ایم کیو ایم کے بارے میں بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق کی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ایم کیو ایم پر پہلے بھی دہشت گردوں کی مدد کرنے اور بھارت کی اینٹلی جنس ایجنسی ’را‘ سے تربیت حاصل کرنے کے الزامات لگ چکے ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسبملی کے ارکان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بی بی سی کی رپورٹ میں عائد کیےگئے الزامات کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کا کمیشن قائم کرے اور اگر الزامات سچ ثابت ہوں تو غداری سے متعلق آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں پر مقدمہ چلایا جائے۔

خیال رہے کہ بی بی سی کے صحافی اوون بینٹ جونز کی رپورٹ دو روز پہلے منظر عام پر آئی تھی جس میں پاکستانی ذرائع کا حوالہ دے کر بتایا گیا تھا کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر حکام نے برطانوی حکام کو بتایا ہے کہ جماعت کو بھارتی حکومت سے مالی مدد ملتی رہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بی بی سی کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں نے یہ انکشافات باضابطہ ریکارڈ کیے گئے انٹرویوز میں کیے جو انھوں نے برطانوی حکام کو دیے تھے۔

بھارتی حکام نے ان دعووں کو قطعی طور پر بے بنیاد قرار دیا تھا جبکہ ایم کیو ایم کے ترجمان سینیٹر سیف نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی بی سی کی ’ڈاکیومنٹری‘ میں ایم کیو ایم پر ماضی لگائے جانے والے پرانے الزامات کا مجموعہ ہے اور یہ الزامات نہ تو ماضی میں ثابت ہوئے ہیں اور نہ اب ہوں گے۔

اسی بارے میں